میں نہ مانوں والی سوچ نے پارٹی کو اس حال پر پہنچایا، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پی ٹی آئی کے سابق رہنماء کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، مذاکرات صرف قیدیوں کی رہائی کے لیے نہیں بلکہ بنیادی نظام پر بھی ہونا چاہئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ میں نہ مانوں والی سوچ نے پارٹی کو اس حال پر پہنچایا، عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، مذاکرات صرف قیدیوں کی رہائی کے لیے نہیں بلکہ بنیادی نظام پر بھی ہونا چاہئیں۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی میزبانی میں اسلام آباد میں قومی سیاسی مفاہمت پر نیشنل کانفرنس سے خطاب میں شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے کبھی قومی سلامتی کے تصور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، صلح حدیبیہ میں بھی ایسی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں، نیلسن منڈیلا نے کتنا عرصہ جیل میں گزارا لیکن ڈالائیگ کا عمل ہمیشہ سے ہی پائیدار نتیجہ دیتا ہے ایک ہم ہیں کہ سیاسی مخالفت کو نقطہ عروج پر پہنچا دیا،اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو اپنی حالت بدلنے کی فکر ہو۔
شیر افضل نے کہا کہ فوج کو پاکستان کی طاقت بننا ہے پاکستان کو فوج کی طاقت نہیں بننا، بانی چیئرمین عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، ڈائیلاگ صرف بانی چیئرمین کی رہائی کا نہیں ہے، 27 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ اپنی آزادی کھو چکی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ مذاکرات پر عمل درآمد کون کروائے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ میرا حلقہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ حلقہ ہے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ڈائیلاگ بنیادی نظام پر ہونا چاہیے صرف بانی چیئرمین اور کوٹ لکھپت کے قیدیوں کی رہائی کے لیے نہ ہو۔ شیر افضل نے مزید کہا کہ میں پی ٹی آئی سے منتخب ہوا ہوں، میں نہ مانوں والی سوچ نے پارٹی کو اس حال پر پہنچایا، آپ ن لیگ کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے، آپ کو اے این پی، پیپلز پارٹی اور فواد چوہدری سے کیا مسئلہ ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی رہائی شیر افضل نے کبھی نہیں کی
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔