اسلام آباد میں باخبر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کو ہٹانے یا ان کی جگہ کسی مبینہ ’’ونڈر بوائے‘‘ کو لانے سے متعلق قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایسی کسی کوشش یا منصوبے پر نہ تو غور ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت سمجھی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان تعلقات، باہمی اعتماد اور احترام پہلے کی طرح مضبوط اور شاندار ہیں، اور ان کے ورکنگ ریلیشن شپ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ذریعے نے براہِ راست سوال پر کہا کہ دونوں کے تعلقات بالکل ٹھیک اور مثالی نوعیت کے ہیں۔

ذرائع نے اس تاثر کو بھی رد کر دیا کہ کسی بڑے منصوبے کے تحت کسی نئے کردار یا ونڈر بوائے کی تلاش جاری ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کے عہدے یا فوجی قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات کو کمزور کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہ بحث سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے ایک حالیہ کالم کے بعد سامنے آئی تھی، جس میں ونڈر بوائے اور گرینڈ پلان کا ذکر کیا گیا۔ تاہم باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کالم سے جڑی تمام تشریحات محض قیاس آرائیاں ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار