‘کوئی ونڈر بوائے نہیں آرہا، وزیراعظم، فیلڈ مارشل تعلقات پرفیکٹ ہیں’
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کو تبدیل کرنے کیلئے مبینہ طور پر کسی ’’ونڈر بوائے‘‘ کو تلاش نہیں کیا جا رہا۔ ساتھ ہی ان ذرائع نے واضح کیا کہ وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان تعلقات اور باہمی احترام ویسے ہی ’’پرفیکٹ‘‘ (شاندار) ہیں جیسے پہلے تھے۔ وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان سمجھوتے، کام کرنے کا تعلق اور باہمی احترام میں آیا کوئی تبدیلی آنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک براہِ راست سوال کے جواب میں ان ذرائع میں اہم عہدے پر تعینات ایک ذریعے نے بلا جھجھک کہا، ’’یہ بہت ہی شاندار ہیں۔‘‘ ذرائع نے اس قیاس آرائی کو بھی مسترد کیا کہ کسی مبینہ ’’بڑے منصوبے‘‘ کے تحت ’’ونڈر بوائے‘‘ کی ضرورت ہے۔ یہ بحث حالیہ دنوں میں سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ کی جانب سے لکھے گئے ایک کالم کے بعد زور پکڑ گئی، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’’اندازہ کہتا ہے کہ گرینڈ پلان میں ایک ونڈر بوائے کی ضرورت کو محسوس کیا جاتا ہے۔ شہباز شریف سونا ہیں مگر اب سونے نہیں ہیرے کی ضرورت آن پڑی ہے کیونکہ برسوں کے تساہل کو ہیرے جیسا ونڈر بوائے ہی ختم کرسکتا ہے۔ خواہشیں چاہے پوری ہوں یا نہ ہوں ان پر کوئی قید نہیں، اسلئے یہ خواہش تو کہیں نہ کہیں موجود ہے کہ وفاقی کابینہ کے ارکان بنگلہ دیش کی طرح پی ایچ ڈی ہوں ،اپنے اپنے شعبوں پر اتھارٹی رکھتے ہوں اور ان سب کیلئے یہ شرط بھی ہو کہ انہوں نے پی ایچ ڈی دنیا کی کسی مستند یونیورسٹی سے کر رکھی ہو ۔‘‘ اس کالم نے مرکزی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع بحث کو جنم دیا۔ کئی مبصرین نے محسوس کیا کہ جنگ اخبار کے سینئر کالم نگار نے جان بوجھ کر اپنے دلائل مبہم رکھے تاکہ طاقتور حلقوں کے براہِ راست رد عمل سے بچ سکیں۔ تاہم، باخبر ذرائع نے ایسی کسی بھی تشریح کو سختی سے مسترد کیا اور واضح کیا کہ اس قیاس آرائی کا کوئی جواز نہیں اور وزیرِاعظم کے عہدے یا ان کے فوجی قیادت کے ساتھ کام کرنے کو کمزور کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ونڈر بوائے کیا کہ
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔