لاہور کی نجی یونیورسٹی کی نوجوان طالبا کا اقدام خودکشی، اصل وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
لاہور میں نجی یونیورسٹی کی طالبا فاطمہ کی جانب سے خودکشی کی کوشش کے اصل حقائق سامنے آگئے۔
ایکسپریس نیوز کو پولیس ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق فاطمہ اپنے آبائی علاقے نارنگ منڈی میں احمد نامی لڑکے کو پسند کرتی اور اُس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ گھر والے فاطمہ کی شادی سے راضی نہیں تھے اور وہ فاطمہ کو اپنی پڑھائی جاری رکھنے پر زور دے رہے تھے۔
مزید پڑھیںطالبہ کی مبینہ خودکشی، یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگانے کی ویڈیو منظرعام پر آگئی
ذرائع کے مطابق فاطمہ نے پسند کی شادی نہ ہونے پر دلبراشتہ ہو کر خودکشی کی کوشش کی جبکہ چھلانگ لگانے سے پہلے بھی آخری بار کال پر بات اُسی لڑکے کے ساتھ کی تھی۔
ذرائع کے مطابق لڑکی نے آخری کال کے بعد احمد نامی لڑکے کا نمبر بھی موبائل سے ڈیلیٹ کردیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ فاطمہ کے اہل خانہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروادیا ہے۔
پولیس کے مطابق لڑکی کا اسپتال میں علاج جاری ہے اور اُسے تاحال ہوش نہیں آیا ہے جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔