تحریک انصاف کی قیادت پر ابہام نہیں، اصل چیئرمین عمران خان ہی ہیں: سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے پارٹی چیئرمین کے معاملے پر جاری بحث کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی پالیسی اور قیادت کا اصل مرکز اب بھی عمران خان ہی ہیں، جبکہ بیرسٹر گوہر علی خان عمران خان کے مقرر کردہ اور منتخب چیئرمین ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان سے بیرسٹر گوہر کے بعض بیانات کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا کہ چیئرمین کی رائے کو پارٹی پالیسی کیوں نہ سمجھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ’سیاسی جماعتوں کو کلاس روم کی طرح نہیں چلایا جاسکتا‘ عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کو یہ پیغام کیوں بھیجا؟
جس پر انہوں نے وضاحت کی کہ تحریک انصاف کی پالیسی عمران خان دیتے ہیں اور وہی حقیقی چیئرمین ہیں۔ ’شر کے پتلے جو بھی رنگ دیں، حقیقت یہی ہے کہ پارٹی قیادت عمران خان کے پاس ہے۔‘
گوہر صاحب عمران خان صاحب کے مقرر کردہ اور منتخب چیئرمین ہیں۔ مجھ سے گوہر صاحب کے کچھ بیانات کے حوالے سے پوچھا گیا کہ چئرمین کی رائے کو پارٹی پالیسی کیوں نہ سمجھا جائے؟ اس تناظر میں نے کہا کہ پالیسی عمران خان صاحب دیتے ہیں اور وہی حقیقی چیئرمین ہیں۔ شر کے پتلے جو بھی رنگ دیں ۔۔
— salman akram raja (@salmanAraja) January 7, 2026
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک انٹرویو کے دوران سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا بیرسٹر گوہر علی خان کو عملی طور پر سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے اور نیا چیئرمین کون ہوگا۔
اس کے جواب میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ چیئرمین عمران خان ہی ہیں اور اس وقت کوئی اور چیئرمین موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ صورتحال اور الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کے ساتھ رویہ سب کے سامنے ہے، جو ان کے بقول ’جبر کے ضابطے‘ کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: جسٹس نعیم اختر افغان کا پی ٹی آئی سے وابستگی پر سلمان اکرم راجہ سے کیا مکالمہ ہوا؟
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اصل صورتحال سے سب آگاہ ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ عمران خان ہی چیئرمین ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور چیئرمین نہیں۔
تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری کے اس مؤقف کو پارٹی کے اندر قیادت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی قیاس آرائیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اپنے اس حالیہ بیان کے ذریعے انہوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ پارٹی کی نظریاتی اور سیاسی قیادت بدستور عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تحریک انصاف جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ سلمان اکرم راجہ عمران خان ہی تحریک انصاف چیئرمین ہیں انہوں نے ہیں اور کہا کہ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔