پرویز الہٰی سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)احتساب عدالت لاہور میں گجرات کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق ریفرنس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی سمیت تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے لیے 15 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے، احتساب عدالت کے جج نے گجرات میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق ریفرنس کی سماعت کی، دورانِ سماعت شریک ملزمان سلیمان احمد اور مظفر اقبال کو ریفرنس کی نقول فراہم کر دی گئیں۔
حجاب اور نقاب کے ساتھ زیورات خریدنے پر پابندی، جیولری تاجروں کے فیصلے نے ہنگامہ کھڑا کردیا
عدالت نے چودھری مونس الہٰی کے اثاثے ضبط اور نیلام کرنے کے خلاف دائر درخواست پر بھی دلائل طلب کر لیے، مونس الہٰی نے یہ درخواست اپنی والدہ قیصرہ الہٰی کے ذریعے دائر کی ہے جنہیں انہوں نے مختار نامہ دے رکھا ہے۔
ریفرنس میں شریک دیگر ملزمان میں محمد خان بھٹی، خالد محمود، سہیل اصغر اعوان اور آصف محمود سمیت دیگر افراد شامل ہیں، عدالت نے تمام ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کیلئے 15 جنوری کو آئندہ سماعت مقرر کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔