اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+خصوصی رپورٹر) سپریم کورٹ میں  افغان مہاجرین کے لیے افغان کمشنریٹ کو دی گئی اراضی کرایہ اور ملبہ ہٹانے کے معاملے کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے افغان کمشنریٹ پشاور کی اپیل خارج کردی۔سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا کرائے کی ادائیگی اور ملبے ہٹانے کا فیصلہ برقرار رکھا، وکیل متاثرین نے مؤقف اپنایا کہ 1983 ء میں افغان مہاجرین کیلئے مقامی لوگوں سے زمین کرائے پر لی گئی، چترال میں بننے افغان مہاجر کیمپ کو 2005ء میں خالی کرایا گیا، زرعی اراضی پر مہاجرین کیمپ میں مکانات بنائے گیے تھے جس کا ملبہ تاحال موجود ہے۔وکیل نے کہا کہ 2005ء سے اب تک کرایہ بھی ادا نہیں کیا گیا، افغان کمشنریٹ جب تک وہاں سے مبلہ نہیں ہٹاتا اراضی ہم کیسے وصول کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو کیمپ خالی کر کے دیا گیا ہے تو آپ ملبہ خود بھی ہٹا سکتے ہیں، وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملبہ ہٹانے میں زیادہ پیسے درکار ہیں جو متاثرین نہیں کمشنریٹ کی زمہ داری ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ کی رضامندی ہے تو ہم انہیں جون تک کا وقت دے دیتے ہیں وہ ملبہ ہٹا دیں گے۔سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی، ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ نے کرائے کی ادائیگی اور ملبہ ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: افغان کمشنریٹ سپریم کورٹ ملبہ ہٹانے کورٹ نے

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور