ہمارا ملک ہماری وجہ سے ناکامیوں کی طرف جارہا ہے: محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک ہماری وجہ سے ناکامیوں کی طرف جارہا ہے۔
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نہ یہاں کسی کو فتح کرنے، گالیاں دینے نہ پتھر مارنے نکلے ہیں، ہم آئین بچانے نکلے ہیں، ہم ظلم مٹانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ جو پاکستانی آئین کی حکمرانی اور امن چاہتا ہے وہ ہمارے ساتھ ہو، ہم نے 8 فروری کی کال دی ہے، ہم نے تحریک شروع کی ہے، ہم اس سلسلے میں لاہور جا رہے ہیں، کئی ایم پی ایز ہمارے ساتھ جا رہے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم جمہوری ڈائیلاگ کے لیے تیار ہیں، آئیں ملک کو بربادی سے نکالیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمسایوں سے تعلقات بگڑ رہے ہیں، حکومت خود جانتی ہے وہ ہار چکی ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم پنجاب میں تین دن رہیں گے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے، ہم پُرامن اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی رہے ہیں
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔