عثمان خواجہ آخری ٹیسٹ کو یادگار نہ بناسکے، رقت آمیز مناظر کے ساتھ رخصت
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
آسٹریلیا کے کامیاب بلے بازوں میں شامل پاکستانی نژاد عثمان خواجہ اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے آخری میچ کو یادگار نہ بناسکے۔
سڈنی میں کھیلے گئے ایشیز سیریز کے آخری میچ میں آسٹریلوی ٹیم نے 5 وکٹوں سے فتح حاصل کی تاہم عثمان خواجہ بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔
عثمان خواجہ جب آخری مربتہ بیٹنگ کرنے کے لیے میدان میں آئے انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
Usman Khawaja receives a guard of honour as he walks out to bat for the final time in Test cricket ???? pic.
کریز پر پہنچنے پر ساتھی کھلاڑی مارنس لبوشین نے گلے لگا کر ان کا استقبال کیا۔
عثمان خواجہ پہلی اننگ میں 17 اور دوسری اننگ میں صرف 6 رنز بناسکے۔
آؤٹ ہوکر واپس جاتے ہوئے انہوں نے میدان میں سجدہ شکر بھی ادا کیا۔ اس دوران ان کی اہلیہ ریچل خواجہ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
مزید پڑھیںمیں پاکستانی مسلمان ہوں، کہا گیا آسٹریلیا کیلیے نہیں کھیل سکو گے، عثمان خواجہ
عثمان خواجہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹیو اسمتھ کا بھی بڑا اعلان
Thanks, Uzzy ❤️ #Ashes pic.twitter.com/h9HPM4arJy
— cricket.com.au (@cricketcomau) January 8, 2026عثمان خواجہ کے اہلخانہ سمیت مداحوں کی جانب سے بھی انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔
Special moments for Usman Khawaja with his family following his retirement from Test cricket ❤️ pic.twitter.com/cbw0kJnpbL
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) January 8, 2026واضح رہے کہ عثمان خواجہ نے آسٹریلیا کے لیے 88 ٹیسٹ میچز میں 16 سنچریز اور 28 نصف سنچریز کی مدد سے 6229 رنز بنائے۔
Usman Khawaja, one of Australia's finest ✨ pic.twitter.com/djT5tHd4uB
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) January 8, 2026
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عثمان خواجہ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔