امریکی امیگریشن حکام نے چھاپے کے دوران خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
امریکی شہر منیاپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک چھاپے کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی۔ یہ واقعہ ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا جہاں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف جاری کارروائیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق چھاپے کے دوران کچھ مظاہرین نے آئی سی ای اہلکاروں کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران ایک خاتون ڈرائیور نے مبینہ طور پر اپنی گاڑی اہلکاروں پر چڑھانے کی کوشش کی، جس پر ایک آئی سی ای افسر نے فائرنگ کر دی۔ گولی لگنے سے خاتون موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق فائرنگ دفاعِ نفس میں کی گئی، کیونکہ خاتون بے نظمی، مزاحمت اور رکاوٹ ڈال رہی تھیں اور اہلکار نے خود کو بچانے کے لیے اقدام کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔