ایران میں جاری پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آگئی، مظاہرین کی فائرنگ سے 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق WhatsAppFacebookTwitter 0 8 January, 2026 سب نیوز

تہران (آئی پی ایس) ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آگئی جہاں تازہ احتجاج کے دوران مظاہرین کی فائرنگ سے 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ 30 زخمی ہو گئے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق احتجاج اُس وقت پُرتشدد رنگ اختیار کرگیا جب لردگان شہر میں دکاندار اپنی دکانیں بند کرنے کے بعد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

رپورٹ کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ بعض مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 اہلکار جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق لردگان شہر میں مظاہرین نے گورنر کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔

ادھر سرحدی صوبے شمالی خراسان کے شہر بجنورد میں ایک دکان کو آگ لگا دی گئی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے قریب موجود ایک شہری کی گاڑی کو محفوظ مقام پر منتقل کر کے اسے آگ لگنے سے بچا لیا۔

حکام کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے 11 روز سے جاری ہیں اور اس دوران جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 35 ہوچکی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق تہران، شیراز اور مغربی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، مظاہروں کے دوران تقریباً 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مظاہروں میں تقریباً 250 پولیس اہلکار اور بسیج فورس کے 45 ارکان زخمی ہوئے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپرویز الہٰی سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر پرویز الہٰی سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر ہر ظالم اور مافیا کیلئے پنجاب کی زمین تنگ کردی ،کسی فتنےکو پنپنےکی اجازت نہیں دینگے: مریم نواز دادو: جعلی پولیس مقابلہ، جرم ثابت ہونے پر ایس ایچ او سمیت 10 اہلکاروں کو 7 سال قیدکی سزا امریکا کا وینزویلا کا تیل غیر معینہ مدت تک کنٹرول کرنے کا اعلان پی ٹی آئی وفد اور سپیکر ملاقات پر قومی اسمبلی ترجمان کی وضاحت امریکا، چرچ کے قریب فائرنگ سے 2 افراد ہلاک TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سکیورٹی اہلکار اہلکار جاں بحق مظاہرین کی فائرنگ سے 2 ایران میں کے مطابق

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران