چینی روبوٹ نے انسانی مداخلت کے بغیر سور پر پیچیدہ سرجری انجام دیدی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین کی ایک کمپنی کے تیار کردہ جدید روبوٹ نے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے 30 کلوگرام وزنی سور پر بائلیری سرجری کامیابی کے ساتھ انجام دی، جس کے دوران کسی بھی مرحلے پر براہِ راست انسانی مداخلت شامل نہیں تھی۔
یہ تجربہ 24 دسمبر کو شنگھائی میں تیار کیے گئے ایک سرجیکل روبوٹ کے ذریعے کیا گیا، جو کمپنی کے اپنے نیورون ملٹی موڈل سرجیکل اے آئی سسٹم سے لیس تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بنیادی اور اہم مراحل روبوٹ نے مکمل طور پر خودمختار انداز میں مکمل کیے۔
روبوٹ نے پہلی کوشش میں سرجری کے 88 فیصد مراحل درست طور پر سرانجام دیے، جبکہ باقی مراحل میں اس نے حالات کے مطابق فوری طور پر خود کو ایڈجسٹ کرتے ہوئے طریقۂ کار میں تبدیلیاں کیں اور آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا۔
کمپنی کے مطابق روبوٹ کا مرکزی کنٹرول نیورون اے آئی ماڈل پر مشتمل ہے، جو ایک ملٹی موڈل ایکشن جنریشن سسٹم ہے اور اسے 3 ارب پیرا میٹرز پر تربیت دی گئی ہے، جن میں 23 ہزار سے زائد سرجیکل ویڈیو کلپس شامل ہیں۔ اس تربیت کے نتیجے میں روبوٹ تجربہ کار سرجنز کے کلینیکل فیصلوں کی نقل کرنے اور آپریشن کے دوران تصاویر اور آلات کی صورتحال کے مطابق حکمتِ عملی ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ کامیاب تجربہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا مظاہرہ ہے، جو انسانی کنٹرول میں ہونے والی ریموٹ ٹیلی آپریشن سرجری سے مکمل خودمختار روبوٹک سرجری کی جانب ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔