ٹرمپ کی زبردست فوجی منصوبہ بندی: دفاعی بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2027 کے لیے امریکی دفاعی بجٹ کو 50 فیصد بڑھا کر 1.5 ٹریلین ڈالر کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے انہوں نے “پریشان کن اور خطرناک وقتوں” میں قومی سلامتی کے لیے ضروری بتایا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا (Truth Social) پر کہا کہ پہلے وہ 1 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ چاہتے تھے، لیکن اب عالمی کشیدگی اور بڑھتے خطرات کے پیش نظر فوجی اخراجات میں اضافے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس نئی رقم سے ایک طاقتور “Dream Military” بنانے کا دعویٰ کیا، جو امریکا کو ہر دشمن کے خلاف محفوظ رکھے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اضافی اخراجات کا کچھ حصہ امریکی ٹیرف محصول (Tariff Revenues) سے ممکن ہو گا، جو تجارتی اقدامات کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔
امریکا کا موجودہ فوجی بجٹ 2026 میں تقریبا 901 ارب ڈالر ہے، جس سے اگلے سال 50 فیصد تک اضافہ ہوگا۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد بین الاقوامی دفاعی کمپنیوں کے حصص میں اُتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جبکہ صدر نے کچھ بڑی کمپنیوں کو حوصلہ دیا کہ وہ مزید ہتھیار اور سازوسامان بنانے کے لیے سرمایہ کاری بڑھائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دفاعی صنعت میں اعلیٰ عہدے داروں کی اجرتوں اور منافع بانٹنے پر بھی پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔
اس تجویز کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت ہوگی، اور کچھ قانون دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اتنے بڑے بجٹ کے لیے وفاقی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔