ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔
حیدرآباد میں 10 سے 20 روپے فی کلو کا اضافہ کردیا گیا،20 کلوآٹے کا تھیلا 2400 سے بڑھ کر 2600 روپے کا ہوگیا۔
چکی مالکان کا کہنا ہےکہ 100 کلو گندم کی بوری پر 13 سے 15 سو روپے تک اضافہ ہوا ہے جبکہ پشاور میں ایک ہفتے کے دوران 20 کلو تھیلے کی قیمت 200 روپے تک بڑھ چکی ہے۔
دوسری جانب ذرائع فلار ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے بتایا گیا کہ سرکاری گندم کا اجرا نہ ہونے سے پنجاب میں آٹے کی قلت برقرار ہے جبکہ جنوبی پنجاب اور سینٹرل پنجاب میں بحرانی کیفیت بڑھ گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ سرکاری گندم کا اجرا لاہور تک محدود ہے اور دیگر شہروں میں 10 کلو آٹے کا تھیلہ دستیاب نہیں، فلار ملز نے گندم منہگی ہونے پر پسائی روک دی ہے، 4600 روپے من گندم لے کر سستا آٹا فروخت نہیں کر سکتے۔
گروپ لیڈر فلارملزایسوسی ایشن عاصم رضا کا کہنا ہے کہ محکمہ جتنی گندم دے رہا ہے اتنا آٹا بازار میں بھجوا رہے ہیں،گندم کی قلت ہے اور یہ مہنگی بھی ہوگئی ہے، پچھلے سال کی نسبت اس سال گندم اجرا انتہائی کم ہے، آٹے کی قیمت بڑھ رہی ہے اور مزید بڑھے گی۔
دوسری جانب ترجمان محکمہ خوراک کے مطابق صوبے میں گندم 8 لاکھ میٹرک ٹن موجود ہے، قلت نہیں، پنجاب میں آٹے کا ایک ہی ریٹ ہے۔
ترجمان کے مطابق 10 کلو آٹے کا تھیلا 905 روپے کا ہے جبکہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1810 روپے ہے، پنجاب میں آٹے کی قیمت نہیں بڑھی اور نہ ہی بڑھنے دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آٹے کی قیمت میں آٹے کی آٹے کا
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔