سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں میڈیکل ریپس کے داخلے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
سٹی42: محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے نمائندوں (میڈیکل ریپس) کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کو باقاعدہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کے مطابق ہسپتال کی حدود میں میڈیکل ریپ کا داخلہ غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیکل ریپس کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کار ڈاکٹرز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
نیتن یاہو کی کرپشن کا کیس سننے والا جج ٹریفک حادثہ میں ہلاک
محکمے نے سرکاری ہسپتالوں کے تمام ڈاکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ میڈیکل ریپس سے مکمل طور پر دور رہیں۔ انتظامیہ کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام پروفیسرز اور ڈاکٹرز کو میڈیکل ریپس پر عائد پابندی سے تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہسپتال کی حدود سے کسی بھی میڈیکل ریپ کے پکڑے جانے کی صورت میں اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 میڈیکل ریپس
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔