Jasarat News:
2026-06-02@23:35:18 GMT

نوجوانوں کیلئے ویپنگ،ای سگریٹ کے خلاف بڑا ایکشن ،بل پیش

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260108-08-19
اسلام آباد(نمائندہ جسارت )نوجوانوں کے لیے ویپنگ اور ای سگریٹ کے خلاف اہم اقدامات کرتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں پیش کردہ ‘الیکٹرانک نکوٹین ڈیلیوری سسٹم ریگولیشن بل’ میں سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔سینیٹر سرمد علی کی جانب سے قائمہ کمیٹی صحت میں پیش کردہ بل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے قریب ویپ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور 18 سال سے کم عمر افراد کو ویپ بیچنا اب جرم ہوگا اور سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ بل میں کہا گیا کہ اسکولوں اور کالجوں کے 50 میٹر کی حدود میں ویپ کی فروخت پر پابندی، عوامی مقامات، پارکس اور سرکاری دفاتر میں بھی ویپنگ ممنوع قرار دی جائے۔ تجویز دی گئی ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی پر ویپ کے اشتہارات پر مکمل بلیک آؤٹ کیا جائے اور نکوٹین کی مقدار 40mg/ml تک محدود اور پیکنگ پر وارننگ لکھنا لازمی قرار دیا جائے۔ سزاؤں کے حوالے سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو 50 ہزار روپے جرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی طرح تجویز دی گئی ہے کہ آن لائن ویپ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے لیے “عمر کی تصدیق” کا نظام لازمی قرار دیا جائے۔وزارت صحت کی جانب سے بل کے نفاذ کے لیے جامع پلان تیار کیا گیا جس کے مطابق ویپ اب سگریٹ کے برابر اور عوامی ٹرانسپورٹ میں استعمال پر پابندی عائد ہوگی۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ نوجوانوں کی صحت پر سمجھوتا نہیں ہوگا، غیر معیاری ای-لیکویڈ کی اسمگلنگ پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی