نوجوانوں کیلئے ویپنگ،ای سگریٹ کے خلاف بڑا ایکشن ،بل پیش
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260108-08-19
اسلام آباد(نمائندہ جسارت )نوجوانوں کے لیے ویپنگ اور ای سگریٹ کے خلاف اہم اقدامات کرتے ہوئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں پیش کردہ ‘الیکٹرانک نکوٹین ڈیلیوری سسٹم ریگولیشن بل’ میں سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔سینیٹر سرمد علی کی جانب سے قائمہ کمیٹی صحت میں پیش کردہ بل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے قریب ویپ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور 18 سال سے کم عمر افراد کو ویپ بیچنا اب جرم ہوگا اور سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ بل میں کہا گیا کہ اسکولوں اور کالجوں کے 50 میٹر کی حدود میں ویپ کی فروخت پر پابندی، عوامی مقامات، پارکس اور سرکاری دفاتر میں بھی ویپنگ ممنوع قرار دی جائے۔ تجویز دی گئی ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی پر ویپ کے اشتہارات پر مکمل بلیک آؤٹ کیا جائے اور نکوٹین کی مقدار 40mg/ml تک محدود اور پیکنگ پر وارننگ لکھنا لازمی قرار دیا جائے۔ سزاؤں کے حوالے سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو 50 ہزار روپے جرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی طرح تجویز دی گئی ہے کہ آن لائن ویپ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے لیے “عمر کی تصدیق” کا نظام لازمی قرار دیا جائے۔وزارت صحت کی جانب سے بل کے نفاذ کے لیے جامع پلان تیار کیا گیا جس کے مطابق ویپ اب سگریٹ کے برابر اور عوامی ٹرانسپورٹ میں استعمال پر پابندی عائد ہوگی۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ نوجوانوں کی صحت پر سمجھوتا نہیں ہوگا، غیر معیاری ای-لیکویڈ کی اسمگلنگ پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔