بھارتی بزنس مین انیل اگروال کے بیٹے اگنی ویش اگروال انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ویدانتہ گروپ کے چیئرمین انیل اگروال کے صاحبزادے اگنی ویش امریکا میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 49 برس تھی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق وہ اچانک دل کا دورہ پڑنے کے باعث وفات پا گئے۔
انیل اگروال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اس دن کو اپنی زندگی کا سب سے تاریک دن قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے کو حال ہی میں اسکیئنگ کے ایک حادثے کے بعد نیویارک کے ماؤنٹ سائنائی اسپتال میں علاج کے لیے داخل کیا گیا تھا جہاں ان کی حالت بہتر ہو رہی تھی تاہم اچانک طبی پیچیدگی کے باعث دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔
The untimely passing of Shri Agnivesh Agarwal is deeply shocking and saddening.
— Narendra Modi (@narendramodi) January 8, 2026
انیل اگروال نے اپنے پیغام میں کہا کہ والدین کے لیے اولاد کا بچھڑ جانا ناقابلِ برداشت صدمہ ہے اور اس نقصان نے ان کے خاندان کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
انیل اگروال نے کہا کہ ان کا بیٹا ایک سادہ مزاج، بااخلاق اور انسان دوست شخصیت کا حامل تھا، جس نے اپنے کردار اور قیادت سے بے شمار افراد کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ویَدانتہ گروپ میں کام کرنے والے ہزاروں نوجوان انہیں اپنی اولاد کی مانند محسوس ہوتے ہیں، جس سے انہیں کچھ حد تک حوصلہ ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف بھارتی اداکار انتقال کرگئے
انیل اگروال نے اپنے بیٹے کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے سماجی خدمت کے عزم کی تجدید کی اور اعلان کیا کہ وہ اپنی آمدنی کا 75 فیصد سے زائد حصہ سماج کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کرنے کے اپنے وعدے پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگنی ویش اگروال کی یاد اور وراثت ان خدمات کے ذریعے زندہ رہے گی جو معاشرے کے لیے انجام دی جائیں گی۔
اگنی ویش اگروال کی پیدائش 3 جون 1976 کو پٹنہ میں ہوئی۔ انہوں نے مایو کالج، اجمیر سے تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے فجیرہ گولڈ کی بنیاد رکھی اور ویَدانتہ گروپ کی اہم کمپنی ہندستان زنک کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ کھیل اور موسیقی سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اگنی ویش انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔