گیس کی الاٹمنٹ اورقیمتوں کی تفصیلات پر ماری انرجیز کا اسٹاک ایکسچیبج کو خط
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ماری انرجیز لمیٹڈ نے گیس کی الاٹمنٹ اور قیمتوں کی تفصیلات کے حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ضلع گھوٹکی میں واقع غازیج اور شوال گیس فیلڈز سے مختلف کھاد فیکٹریوں کو گیس کی الاٹمنٹس جاری کر دی ہیں۔ کمپنی کے مطابق پورٹ قاسم پر واقع ایف ایف سی کو یومیہ 104 ایم ایم ایس سی ایف ڈی خام گیس اور 80 ایم ایم ایس سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: عوام کے لیے خوشخبری: وفاقی حکومت کا گیس کی قیمتوں سے متعلق اہم اعلان
اسی طرح شیخوپورہ میں فاطمہ فرٹیلائزر کو روزانہ 68 ایم ایم ایس سی ایف ڈی خام اور 52 ایم ایم ایس سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس مہیا ہوگی۔ خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ داؤد خیل میں ایگری ٹیگ کو یومیہ 50 ایم ایم ایس سی ایف ڈی خام گیس اور 38 ایم ایم ایس سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس فراہم کی جائے گی۔ ماری انرجیز کے مطابق کھاد فیکٹریوں کو خام گیس کی فراہمی گیس فیلڈز کے ڈیلیوری پوائنٹس سے کی جائے گی۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ کھاد فیکٹریوں کو خام گیس کی فراہمی اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر ہی ہوگی۔ الاٹ شدہ گیس کو کھاد فیکٹریاں خود پروسیس کریں گی اور بعد ازاں سوئی سسٹم کے ذریعے کارخانوں تک منتقل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: او جی ڈی سی ایل نے غیر روایتی گیس کے منصوبوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملکی سوئی گیس نیٹ ورکس کو ضرورت پڑنے کی صورت میں کھاد فیکٹریاں باہمی طور پر گیس کا تبادلہ بھی کر سکیں گی۔ ماری انرجیز کے مطابق ان اقدامات کا مقصد گیس کی مؤثر فراہمی اور کھاد کی پیداوار کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج او جی ڈی سی ایل گیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج او جی ڈی سی ایل گیس ایم ایم ایس سی ایف ڈی خام گیس گیس کی
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔