ماری انرجیز لمیٹڈ نے گیس کی الاٹمنٹ اور قیمتوں کی تفصیلات کے حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ضلع گھوٹکی میں واقع غازیج اور شوال گیس فیلڈز سے مختلف کھاد فیکٹریوں کو گیس کی الاٹمنٹس جاری کر دی ہیں۔ کمپنی کے مطابق پورٹ قاسم پر واقع ایف ایف سی کو یومیہ 104 ایم ایم ایس سی ایف ڈی خام گیس اور 80 ایم ایم ایس سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس فراہم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے: عوام کے لیے خوشخبری: وفاقی حکومت کا گیس کی قیمتوں سے متعلق اہم اعلان

اسی طرح شیخوپورہ میں فاطمہ فرٹیلائزر کو روزانہ 68 ایم ایم ایس سی ایف ڈی خام اور 52 ایم ایم ایس سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس مہیا ہوگی۔ خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ داؤد خیل میں ایگری ٹیگ کو یومیہ 50 ایم ایم ایس سی ایف ڈی خام گیس اور 38 ایم ایم ایس سی ایف ڈی پروسیسڈ گیس فراہم کی جائے گی۔ ماری انرجیز کے مطابق کھاد فیکٹریوں کو خام گیس کی فراہمی گیس فیلڈز کے ڈیلیوری پوائنٹس سے کی جائے گی۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ کھاد فیکٹریوں کو خام گیس کی فراہمی اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر ہی ہوگی۔ الاٹ شدہ گیس کو کھاد فیکٹریاں خود پروسیس کریں گی اور بعد ازاں سوئی سسٹم کے ذریعے کارخانوں تک منتقل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: او جی ڈی سی ایل نے غیر روایتی گیس کے منصوبوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملکی سوئی گیس نیٹ ورکس کو ضرورت پڑنے کی صورت میں کھاد فیکٹریاں باہمی طور پر گیس کا تبادلہ بھی کر سکیں گی۔ ماری انرجیز کے مطابق ان اقدامات کا مقصد گیس کی مؤثر فراہمی اور کھاد کی پیداوار کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹاک ایکسچینج او جی ڈی سی ایل گیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج او جی ڈی سی ایل گیس ایم ایم ایس سی ایف ڈی خام گیس گیس کی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں