نیشنل انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام 2026 کا باضابطہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) مون سون 2026 سے قبل تیاری کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اقدامات جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں تعمیرات کے جائزے کے لیے نیشنل انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام 2026 کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جبکہ پروگرام کا باضابطہ آغاز بھی کر دیا گیا۔
وزیراعظم آفس سے منظور شدہ انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام 2026 وفاقی اور صوبائی سطح پر نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت تمام خطرے سے دوچار تعمیرات اور اہم تنصیبات کے جائزے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہاؤسنگ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ قدرتی آفات میں نقصانات کی بڑی وجہ غیر معیاری اور بغیر منصوبہ بندی کی گئی تعمیرات ہیں، اس لیے آفات کے بعد اقدامات کے بجائے پیشگی تحفظ، خطرات کی بروقت تشخیص اور تدارک کے لیے اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام پیشگی تیاری، تعمیرات کو محفوظ بنانے اور نقصانات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ سیمینار کا مقصد وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین مؤثر ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انفراسٹرکچر آڈٹ میں جدید تکنیکی اصولوں پر مبنی طریقہ کار اور ڈیجیٹل رپورٹنگ سسٹم شامل ہوں گے۔
سیمینار میں وفاقی و صوبائی اداروں نے نیشنل انفراسٹرکچر آڈٹ پروگرام 2026 کے مشترکہ نفاذ کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ عوام کے قیمتی جان و مال کا تحفظ این ڈی ایم اے کی اولین ترجیح ہے اور وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت کے مطابق مون سون 2026 سے قبل تمام اہم تعمیرات کا آڈٹ یقینی بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔