پنجاب نے اپنے حصے کے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیے، مجھے اس پر خوشی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود صوبائی حکومت عوام کی خدمت میں مصروف ہے جس پر میں وزیراعلیٰ اور یہاں کے سیاسی زعما کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے قربانیاں دیں، جب تک دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوتا آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان مہاجرین کے لیے ہمیشہ خوش آمدید کہنے والا صوبہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مئی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں افواج پاکستان نے انڈیا کو تاریخی سبق سکھایا جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ ترتیب دیتے ہوئے اسلم رئیسانی کا مطالبہ تھا کہ ہمارے وسائل 100 فیصد بڑھائے جائیں ورنہ ہم اس پر دستخط نہیں کریں گے، ان کا مطالبہ جائز تھا اور اسے پورا کرنے کے لیے پنجاب نے سبقت لی اور اپنے حصے سے 11 ارب روپے سالانہ دیے، مجھے اس پر خوشی ہے، خاندان کی بات آتی ہے تو حصہ نہیں ہوتا، مل بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان ضلعی انتظامیہ کو پولیس اختیارات دینے کا تنازعہ، حکومت سنبھال سکے گی؟
انہوں نے کہا کہ آج کراچی-چمن روڈ کا سنگ بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جسے یہاں خونی روڈ کہا جاتا ہے، یہ 300 ارب روپے کا منصوبہ ہے جسے وفاق مکمل کر رہا ہے، اس سے 18 گھنٹے کا سفر 8 گھنٹے میں مکمل ہوگا اور پہلے کی طرح حادثے نہیں ہوں گے، اسی طرح بلوچستان میں ایک ساتھ 5 دانش اسکول بنا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این ایف سی ایوارڈ بلوچستان کوئٹہ وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این ایف سی ایوارڈ بلوچستان کوئٹہ کہا کہ
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں