بنگلہ دیش اور یورپی یونین نے فریم ورک ایگریمنٹ آن کمپری ہینسو پارٹنرشپ اینڈ کوآپریشن کے تحت جامع شراکت داری معاہدے کے متن پر مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، جسے دوطرفہ تعلقات میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مذاکرات کا پانچواں اور آخری دور 7 اور 8 جنوری کو ڈھاکہ اور سلہٹ میں منعقد ہوا، جس کے دوران دونوں فریقین نے معاہدے کے حتمی متن پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے یورپی یونین کا 3 رکنی وفد اس وقت بنگلہ دیش کے دورے پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور امریکا کے مابین بارہویں دفاعی مذاکرات کا آغاز

بنگلہ دیشی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے سیکریٹری برائے دوطرفہ امور ڈاکٹر محمد نذر الاسلام نے کی، جبکہ یورپی یونین کی جانب سے ایشیا پیسیفک کے لیے ایکٹنگ منیجنگ ڈائریکٹر پاولا پامپالونی مذاکرات کی سربراہ تھیں۔

بنگلہ دیش میں یورپی یونین کے سفیر مائیکل ملر اور دیگر سینئر یورپی حکام نے براہ راست اور آن لائن شرکت کی۔ یورپی یونین میں بنگلہ دیش کے مستقل نمائندے اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے حکام نے بھی مذاکرات میں معاونت کی۔

پی سی اے پر مذاکرات کا آغاز نومبر 2024 میں ڈھاکہ میں تعارفی اجلاس سے ہوا تھا۔ اس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان 5 ادوار اور متعدد تکنیکی اجلاس ڈھاکہ اور برسلز میں بالمشافہ اور آن لائن منعقد ہوئے۔

آخری دور میں قانونی و عدالتی تعاون، دانشورانہ املاک کے حقوق، توانائی تعاون، ماہی گیری اور آبی زراعت، سمندری نظم و نسق، تجارت و سرمایہ کاری، انسانی حقوق اور کسٹمز تعاون سمیت اہم شعبوں پر توجہ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور امریکا کے درمیان محصولات سے متعلق جامع مذاکرات کا دوبارہ آغاز

دونوں جانب کے حکام نے مذاکرات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقصد ایک جامع، متوازن اور باہمی فائدے پر مبنی معاہدے تک پہنچنا تھا جو بنگلہ دیش اور یورپی یونین کی بدلتی ترجیحات اور ابھرتے عالمی چیلنجز کی عکاسی کرے۔

معاہدے پر دستخط کے بعد پی سی اے بنگلہ دیش اور یورپی یونین کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی قانونی اور سیاسی بنیاد فراہم کرے گا۔ اس کے تحت حکمرانی اور انسانی حقوق، تجارت و سرمایہ کاری، ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، توانائی، ٹرانسپورٹ، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

اس معاہدے کے نتیجے میں بنگلہ دیش یورپی یونین کے ساتھ پی سی اے پر دستخط کرنے والا جنوبی ایشیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔

اس سے قبل یورپی یونین کے وفد نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر اور فارن ایڈوائزر سے ملاقاتیں کیں، جن میں پی سی اے، آئندہ عام انتخابات اور ریفرنڈم، غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، قابل تجدید توانائی میں تعاون اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا بنگلہ دیش کی ’انقلابی حکومت‘ کیساتھ ملکر کام کرنیکا عندیہ

چیف ایڈوائزر نے آزاد، منصفانہ اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ فارن ایڈوائزر نے یورپی یونین کے ساتھ تعمیری، مستقبل پر مبنی اور نتائج خیز روابط جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ پاولا پامپالونی نے پُرامن انتخابی عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب جمہوری انتقال کے بعد بنگلہ دیش اور یورپی یونین کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں اور دنیا کے سب سے بڑے معاشی بلاک کے ساتھ تعلقات کا نیا باب کھل سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا بنگلہ دیش مذاکرات معاہدہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا بنگلہ دیش مذاکرات معاہدہ بنگلہ دیش اور یورپی یونین یورپی یونین کے مذاکرات کا کے درمیان پی سی اے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی