بنگلہ دیش نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں مزید سخت کردیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا جاری کرنے کی پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں، جن کا اطلاق بھارت میں موجود بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشنز پر بھی کر دیا گیا ہے۔ نئی پابندیاں کولکتہ، ممبئی اور چنئی میں قائم سفارتی مشنز تک بڑھا دی گئی ہیں۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے بدھ کی شب اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نئی پابندیاں جمعرات سے نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ تازہ فیصلے کے تحت کاروباری اور ملازمت کے ویزوں کے علاوہ تمام اقسام کے ویزے معطل کر دیے گئے ہیں۔
مختلف شہروں میں ویزا سروسز بندوزارت کے مطابق کولکتہ میں واقع بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن میں قونصلر اور ویزا سروسز مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہیں، جبکہ ممبئی اور چنئی میں بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی اور دیگر ویزا خدمات روک دی گئی ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
پہلے بھی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیںاس سے قبل 22 دسمبر کو بنگلہ دیش نے نئی دہلی میں اپنے ہائی کمیشن، تریپورہ کے شہر اگرتلہ میں اسسٹنٹ ہائی کمیشن اور سلی گوڑی میں قائم ویزا سینٹر میں ویزا اور قونصلر خدمات عارضی طور پر معطل کر دی تھیں۔
آسام کے شہر گوہاٹی میں بھی قونصلر سروسز بند کر دی گئی تھیں۔
ان اقدامات کے بعد بھارت میں بنگلہ دیشی ویزوں کا اجرا اب صرف چند مخصوص زمروں تک محدود ہو گیا ہے۔
اعلیٰ حکام کی ہدایات پر فیصلہکولکتہ میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ اقدام اعلیٰ حکام کی ہدایات پر کیا گیا ہے اور فی الحال صرف کاروباری اور ملازمت کے ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔
ممبئی میں احتجاجدوسری جانب وشو ہندو پریشد (VHP) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ممبئی میں بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا۔
بدھ کے روز تقریباً 150 مظاہرین مشن کے قریب جمع ہوئے اور بنگلہ دیش مخالف نعرے لگائے، جبکہ ایک موقع پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے بھی 5 اگست 2024 کے بعد سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہریوں کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔