اسلام آباد: کھلے گٹر میں گرنے سے 3 سالہ بچہ جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
اسلام آباد کے سنبل علاقے میں ایک دلخراش حادثے میں تین سالہ بچے کی جان چلی گئی، جب وہ ایک کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔ واقعہ مہر آبادی کی حدود میں پیش آیا، جہاں قبضے کی جگہ پر سیوریج کے لیے کھدائی کی گئی تھی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) کا کہنا ہے کہ گٹر کی کھدائی خطرناک انداز میں کی گئی تھی اور حادثے کے وقت تین سالہ بچہ اس میں گر گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ واقعہ کے بعد فوری طور پر مقامی انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور پلاٹ میں کھدائی کرنے والے افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
مقامی اہلکاروں کے مطابق اس حادثے نے نہ صرف بچے کے اہل خانہ کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے بلکہ علاقے میں رہائشیوں میں بھی تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔
شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے خطرناک کھدائی کے منصوبوں پر سخت نگرانی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور بچے یا شہری کے لیے یہ قسم کا حادثہ رونما نہ ہو۔
واقعے نے ایک بار پھر شہری علاقوں میں غیر محفوظ تعمیراتی اور سیوریج کے کاموں کی ذمہ داری اور مقامی انتظامیہ کے مؤثر نگرانی کے فقدان کو اجاگر کیا ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک