نبیل عباس نے پاکستان آئیڈیل کا حصہ بننےکی دلچسپ کہانی سنادی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پاکستان آئیڈل میں اپنے سروں سے داد سمیٹنے والے نبیل عباس نے پروگرام کا حصہ بننے کی دلچسپ کہانی سنا دی۔ایک پوڈ کاسٹ میں نیبل عباس نے شرکت کی جہاں انہوں نے میزبان کے سوال کا جواب دیا اور اپنی کہانی سنائی۔نبیل عباس نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد سے محنت کررہا ہوں، رئیل اسٹیٹ سے گزشتہ 2 سال سے منسلک ہوں، بچپن سے گانے کا شوق تھا۔انہوں نے کہا کہ میرا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے، کام کے سلسلے کی وجہ سے ملتان روزانہ آتا ہوں، میرے باس نے مجھے بولا گھر کیوں جارہے ہوں، صبح پاکستان آئیڈیل کا آڈیشن ہے تو میں دوبارہ ملتان کیلئے روانہ ہوگیا۔نبیل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ آڈیشن سے قبل میری کوئی تیاری نہیں تھی، صبح 8 بجے پہنچا تو لوگ لائن میں لگے تھے اور سب اپنی تیاری کررہے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔