کویت کی عدالت نے منشیات اسمگلنگ کے بین الاقوامی نیٹ ورک سے منسلک دو بھارتی شہریوں کو سزائے موت سنا دی جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی تھی۔

عرب میڈیا کے مطابق استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ملزمان ایک بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھے جو کویت سے باہر سے کام کر رہا تھا۔

یاد رہے کہ دونوں ملزمان کو سیکیورٹی فورسز نے کویت کے علاقوں کیفان اور شوایک سے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔

چھاپہ مار کارروائی کے دوران سیکیورٹی حکام نے ملزمان کے قبضے سے 14 کلوگرام ہیروئن اور 8 کلوگرام میتھ ایمفیٹامین برآمد کی تھی۔

ان کے علاوہ ملزمان کے قبضے سے منشیات کو تولنے کے لیے استعمال ہونے والے الیکٹرانک ترازو اور دیگر ساز و سامان بھی ضبط کیا گیا۔

یہ فیصلہ فوجداری عدالت نے جج خالد الطحوس کی سربراہی میں سنایا گیا۔

یہ مقدمہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے پہلے اعلان کردہ ایک خصوصی آپریشن کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ گرفتاریاں منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم اور سرحد پار مجرمانہ نیٹ ورکس کو توڑنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے بقول خفیہ معلومات اور مسلسل نگرانی کے بعد تفتیشی ٹیمیں ملزمان تک پہنچیں جن کے پاس تجارتی بنیادوں پر فروخت کے لیے تیار کی گئی منشیات موجود تھیں۔

یاد رہے کہ منشیات کے خلاف ملک گیر آپریشن پہلے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ شیخ فہد الیوسف کی نگرانی میں شروع کیا گیا تھا۔

عدالتی فیصلے کویت کے منشیات سے متعلق سخت قوانین اور اسمگلنگ جیسے جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایسے جرائم پر سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: منشیات اسمگلنگ

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار