مریم نواز کا مذہب کے نام پر تشدد کی مذمت، آئمہ کرام کیلیے 25 ہزار روپے اعزازیہ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے امام صاحب پراجیکٹ کے اعزازیہ کارڈ کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں مذہب کے نام پر تشدد، املاک کی تباہی اور پولیس و رینجرز کے جوانوں کی شہادت جیسے واقعات افسوسناک ہیں اور ریاست اپنے شہداء کے خون کا حساب لے گی، کسی فتنے کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔
مریم نواز نے آئمہ کرام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ معاشرے کے ستون اور دین کے علمبردار ہیں، جن کی عزت اور معاشی آسودگی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعزازیہ کارڈ کے اجرا پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، ہوم سیکریٹری احمد جاوید قاضی اور پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج بھی کئی مساجد کے آئمہ کو معمولی چندے پر گزارا کرنا پڑتا ہے اور ان کی روزمرہ ضروریات کے لیے مناسب اعزازیہ کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ابتدا میں آئمہ کرام کے لیے 15 ہزار روپے اعزازیہ تجویز کیا گیا تھا، لیکن نواز شریف کی ہدایت پر اسے 25 ہزار روپے کر دیا گیا۔ انہوں نے اس پروگرام کے آغاز پر منفی پروپیگنڈا کا بھی ذکر کیا تاہم آئمہ کرام کی طرف سے مثبت ردعمل سامنے آیا۔ پنجاب میں تقریباً 80 ہزار مساجد ہیں، جن میں سے 70 ہزار کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے، اور آئندہ ماہ سے ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے اعزازیہ فراہم کیا جائے گا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ آئمہ کرام حکمرانوں اور عوام کی تربیت کے اہم ستون ہیں اور حکومت ان کی رہنمائی اور مشاورت کے لیے ان سے استفادہ کرے گی، اگر کسی امام کو بیماری، تعلیم یا دیگر مسائل کا سامنا ہو تو حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیراعلیٰ نے امن و آشتی، مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے تحفظ پر بھی زور د یتے ہوئے کہاکہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیتوں کو بے خوف زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے پنجاب میں ڈالہ کلچر، خواتین اور بچوں کی بے حرمتی اور دن دیہاڑے قتل کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا عہد کیا۔
مریم نواز نے آئمہ کرام سے اپیل کی کہ وہ معاشرے کی اصلاح، قانون کی بالادستی اور جرائم کے خاتمے کے لیے آواز بلند کریں کیونکہ امام صاحب کی آواز ہر جگہ سنی جاتی ہے اور حکومت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی،اعزازیہ کارڈ کے ذریعے حکومت کی طرف سے آئمہ کرام کی عزت اور حمایت کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ ایک ایسا معاشرہ بنایا جا سکے جس پر سب کو فخر ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئمہ کرام کی اعزازیہ کا مریم نواز کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے