اسلام آباد (نیوز رپورٹر) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائےدفاعی پیداوار سینیٹر عبدالقادربلوچ نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورۂ بلوچستان اور صوبے میں پانچ دانش اسکولوں کا افتتاح ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بلوچستان کو تعلیم، انفراسٹرکچر اور انسانی ترقی کے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ وزیراعظم کے دورے کو محض ایک رسمی تقریب کے بجائے صوبے میں ریاستی توجہ اور پالیسی سمت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے دور رس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے.

دانش اسکول ماڈل بنیادی طور پر معیاری تعلیم، نظم و ضبط، جدید نصاب اور سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک کامیاب تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان جیسے پسماندہ اور رقبے کے لحاظ سے وسیع صوبے میں پانچ دانش اسکولوں کا قیام ایک مثبت آغاز ضرور ہے، تاہم زمینی حقائق یہ تقاضا کرتے ہیں کہ اس منصوبے کو ضلعی سطح تک وسعت دی جائے۔ صوبے کے دور دراز اضلاع میں جہاں غربت، فاصلے اور سہولیات کی کمی کے باعث شرحِ خواندگی انتہائی کم ہے، وہاں دانش اسکولوں کا قیام تعلیمی عدم مساوات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ صرف چند ادارے قائم کر دینا کافی نہیں۔ بلوچستان میں سرکاری اسکولوں کی بڑی تعداد عمارتوں، اساتذہ، فرنیچر اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ اگر دانش اسکولوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکولوں کے معیار کو بھی بہتر نہ بنایا گیا تو تعلیمی نظام میں طبقاتی فرق مزید گہرا ہو جائے گا۔ اساتذہ کی تربیت، جدید نصاب، ڈیجیٹل سہولیات اور مانیٹرنگ کے مؤثر نظام کے ذریعے سرکاری اسکولوں کو بھی فعال اور پرکشش بنایا جائے۔ تعلیم کے فروغ میں سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی بہتری بھی بنیادی شرط ہے۔ بلوچستان کے کئی علاقوں میں اسکول موجود ہونے کے باوجود ناقص یا غیر موجود سڑکوں کی وجہ سے بچوں، خصوصاً بچیوں، کا اسکول پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر صوبے بھر میں سڑکوں کے جال کو بہتر بنایا جائے تو نہ صرف تعلیمی اداروں تک رسائی آسان ہو گی بلکہ مجموعی معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔چیرمین قایمہ کمیٹی براۓ دفاعی پیداوار نے مزید کہا یے کہ طلبہ و طالبات کے لیے صحت مند دوپہر کے کھانے کی فراہمی ایک انتہائی اہم فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ غربت کے شکار خاندانوں میں اکثر والدین بچوں کو مزدوری پر بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر اسکولوں میں معیاری اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جائے تو والدین کا اعتماد بڑھے گا اور بچوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ عالمی سطح پر ایسے پروگراموں نے حاضری اور تعلیمی کارکردگی دونوں میں بہتری ثابت کی ہے۔طلبہ کے لیے ٹرانسپورٹ سہولیات کی فراہمی بھی خاص طور پر بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں ناگزیر ہے۔ محفوظ اور باقاعدہ ٹرانسپورٹ نہ صرف حاضری میں اضافہ کرے گی بلکہ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے والدین کے تحفظات بھی کم ہوں گے۔ ان اقدامات کے مجموعی اثرات نہایت مثبت ہو سکتے ہیں۔ تعلیم کے فروغ سے انسانی وسائل بہتر ہوں گے، بے روزگاری اور محرومی میں کمی آئے گی اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد بڑھے گا۔ وزیراعظم کا یہ دورہ اگر محض اعلانات تک محدود نہ رہا اور عملی اقدامات کے ساتھ تسلسل اختیار کیا گیا تو یہ بلوچستان کے لیے تعلیمی، سماجی اور معاشی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دانش اسکولوں دانش اسکول

پڑھیں:

بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا