انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کراچی:
انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی کی جانب سے پاکستانی بینکوں کی کارکردگی بہترین قرار دیے جانے، ریکوڈک پراجیکٹ کے ذریعے سالانہ بنیادوں اوسطاً 3ارب ڈالر کی آمدنی کے تخمینے، سعودی عرب، لیبیا کے ساتھ بالترتیب دو ارب اور 4 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے کی اطلاعات کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو 76ویں دن بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل سمیت بیشتر کموڈٹیز کی قیمتوں میں کمی کے رحجان سے انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا، جس سے ڈالر کی قدر ایک موقع پر 21پیسے کی کمی سے 279روپے 85پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی۔
بعد ازاں مارکیٹ فورسز اور متعلقہ ریگولیٹر کی ڈیمانڈ آنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 280روپے 05پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 281روپے 10پیسے کی سطح پر مستحکم رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انٹربینک مارکیٹ میں میں ڈالر کی قدر
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔