جامعہ کراچی، سینڈیکیٹ اساتذہ کی چار نشستوں پر انتخابات کے نتائج جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ میں اساتذہ کی چار نشستوں پر منعقدہ انتخابات کے آفیشل نتائج جاری کردیے گئے ہیں۔
حتمی اور سرکاری نتائج کے مطابق پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر اور لیکچرر کی ان تین نشستوں پر کراچی یونیورسٹی ٹیچرز فورم(کے یونیورسٹی ٹی ایف) نے برتری حاصل کرلی ہے جبکہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کی ایک نشست پرٹیگ( ٹیچر الائنس فار گڈ گورننس) کامیاب ہوگیا ہے۔
الیکشن میں پروفیسر انیلا امبر ملک آزاد حیثیت میں پروفیسر کی نشست پر امیدوار کے طور پر سامنے آئی تھیں اور بظاہر ان کا مقابلہ ان ہی کے سابق گروپ کے امیدوار اور موجودہ ڈین فارمیسی حارث شعیب سے تھا اور"کے یو ٹی ایف" کے حارث شعیب اس نشست پر 60 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے تاہم پروفیسر انیلا امبر ملک نے آزاد حیثیت میں بھی31 ووٹ لے لیے ڈاکٹر محمد علی نے اس نشست پر 13 ووٹ لیے۔
اسسٹنٹ پروفیسر کی نشست پر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے موجودہ صدر غفران عالم 135 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ انجمن اساتذہ کے سابقہ صدر محسن علی جو انجمن کا حالیہ الیکشن ہار گئے تھے اب ایسوسی ایٹ پروفیسر کی نشست پر 67 ووٹ لر کر جیت گئے ہیں اور یہی واحد نشست ہے جو ٹیگ جیت سکی ہے ان کے مقابلے میں محمد ایاز نے 22 ووٹ لیے
لیکچرر کی نشست پر شمائلہ صمد خان 32 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں اس نشست پر کاشف ریاض 16 اور نصیر اختر 12 ووٹ لے سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پروفیسر کی کی نشست پر ووٹ لے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔