ٹک ٹاکر رجب بٹ کے وکیل اور کراچی کے وکلا کے درمیان مذاکرات کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کراچی:
مشہور ٹک ٹاکر رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق اور کراچی کے وکلا کے درمیان مذکرات کامیاب ہوگئے اور فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات اور درخواستیں واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔
کراچی سٹی کورٹ میں بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے کہا کہ ہماری آپس میں ساری معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور درج مقدمات کے محرکات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس واقعے کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے اس پر نظر ڈالی گئی، تمام مسائل خوش اسلوبی سے حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چاہے وہ مسئلہ ایڈووکیٹ ریاض سولنگی کے حوالے سے ہو یا میرے مؤکل کے حوالے سے ہے۔
رجب بٹ کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے ایک دوسرے پر کوئی شرائط لاگو نہیں کی ہیں، اس معاملے کو کامیابی سے طے کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 سال سے سندھ بھر میں وکالت کرچکا ہوں، عامر وڑائچ نے اس مسئلے کے حل میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ اس واقعے سے کراچی بار کی ساکھ متاثر ہوئی، کراچی بار میں ہر قوم، مذہب اور فرقے کی عزت کی جاتی ہے، وکلا مذہبی معاملے پر وکالت کریں خود پارٹی نہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی پر کراچی بار یقین رکھتی ہے اس لیے اسے ہدف بنایا گیا، اس واقعے کے ذریعے عوام میں کراچی بار کے وکلا کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آج دونوں فریقین کو فری ہینڈ دیا گیا، ہماری طرف سے کوئی دباؤ نہیں تھا اور ہم تشدد کو کبھی سپورٹ نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کا کوئی مسئلہ ہے تو بار میں آئیں، وکلا سے گزارش ہے جو سائل کورٹ آئے اس سےعزت دیں۔
یاد رہے کہ 29 دسمبر 2025 کو ملزم رجب بٹ اور دو وکلا ریاض سولنگی اور فتح ایڈووکیٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور پھر بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھی، جس پر وکیل صفائی بیرسٹر میاں علی اشفاق نے وکلا کے خلاف سٹی کورٹ تھانے میں مقدمہ درج کروایا تھا اور سندھ بار کونسل میں درخواست دی تھی، جس پر وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رجب بٹ کے وکیل کراچی بار نے کہا کہ
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔