امریکہ، امیگریشن پولیس کے ہاتھوں ایک خاتون کے مارے جانے کے بعد احتجاج شروع
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
ٹرمپ حکومت کے عہدیداروں، جن میں امریکی وزیرِ داخلہ سکیورٹی کرسٹی نوئم بھی شامل ہیں، نے اس واقعے کو امیگریشن اہلکاروں کے خلاف اندرونی دہشت گردی قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خاتون نے اہلکاروں کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی اور ان پر گاڑی چڑھا دی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ریاست مینیاپولیس میں امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک اہلکار کے ہاتھوں ایک خاتون کے گولی لگنے سے ہلاک ہونے کے بعد اس شہر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ ایک بڑے امریکی شہر میں مہاجرین کے خلاف کارروائی کے دوران ICE کے ایک وفاقی اہلکار نے ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد احتجاج شروع ہوا، اسکول بند کر دیے گئے اور امیگریشن اہلکاروں کے خلاف مزاحمت کی اپیلیں کی جانے لگیں۔ اس خاتون کی ہلاکت پر ہونے والے مظاہرے تیزی سے مینیاپولیس سے نکل کر نیویورک، شکاگو، سیئٹل اور امریکہ کے دیگر کئی شہروں تک پھیل گئے۔
امیگریشن پولیس کی اس پرتشدد کارروائی نے ایک بار پھر پولیس تشدد اور امریکہ کے عدالتی و پولیس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ مظاہرین سڑکوں پر جمع ہو کر امتیازی سلوک اور طاقت کے حد سے زیادہ استعمال کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ تحقیقات مکمل شفاف ہوں اور متاثرہ خاتون کو انصاف دیا جائے۔ مینیاپولیس میں ایک احتجاجی مقام پر مظاہرین نے امریکہ کا پرچم بھی نذرِ آتش کر دیا۔ ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت رَنے نیکول مکلین گُڈ کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ 37 سالہ اور تین بچوں کی ماں تھی۔ بدھ کی صبح وہ مینیاپولیس کے وسطی علاقے میں ایک رہائشی محلے میں اپنی گاڑی چلا رہی تھی کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کے سامنے اسے سر میں گولی ماری گئی۔
ٹرمپ حکومت کے عہدیداروں، جن میں امریکی وزیرِ داخلہ سکیورٹی کرسٹی نوئم بھی شامل ہیں، نے اس واقعے کو امیگریشن اہلکاروں کے خلاف اندرونی دہشت گردی قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خاتون نے اہلکاروں کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی اور ان پر گاڑی چڑھا دی۔ لیکن مینیاپولیس کے میئر جیکب فری نے اس سرکاری مؤقف کو بے بنیاد کہا اور بتایا کہ یہ دعویٰ واقعے کی ویڈیو سے مطابقت نہیں رکھتا۔ میئر نے کہا کہ یہ لوگ ابھی سے اسے اپنی حفاظت میں کیا گیا اقدام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے خود ویڈیو دیکھی ہے اور میں صاف صاف سب کو کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بکواس ہے۔ انہوں نے مہاجرین کے خلاف کارروائی کے تحت مینیاپولیس اور سینٹ پال میں دو ہزار سے زائد وفاقی اہلکاروں کی تعیناتی پر بھی تنقید کی۔ میئر فری نے امیگریشن اہلکاروں سے شہر چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ امریکہ میں امن قائم نہیں کر رہے۔ یہ لوگ افراتفری اور بداعتمادی پیدا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امیگریشن اہلکاروں کے خلاف رہے ہیں کر رہے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔