پمز ہسپتال میں پھپھڑوں کی بجائے جگر کی بائیوپسی، خاتون مریضہ کی مبینہ ہلاکت پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پمز ہسپتال میں پھپھڑوں کی بجائے جگر کی بائیوپسی، خاتون مریضہ کی مبینہ ہلاکت پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم WhatsAppFacebookTwitter 0 8 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: پمز ہسپتال میں پھپھڑوں کی بائیوپسی کے بجائے جگر کی بایوپسی کی گئی جس کے نتیجے میں خاتون مریضہ عابدہ پروین کی مبینہ ہلاکت کے واقعے پر پمز ہسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی۔
ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پمز ہسپتال نے کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے مطابق اسلام آباد ایچ او ڈی اون کالوجی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر قاسم محمود بٹر کمیٹی کے چئیرمین مقرر کیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر شرجیل ظہیر کمیٹی کے ممبر ہوں گے۔
کمیٹی کا کام پمز ہسپتال کی پلمونولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹرز اور سٹاف کی مبینہ غفلت کی تحقیقات کرنا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اپنی مکمل تحقیقاتی رپورٹ اور تجاویز ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پمز ہسپتال کو پیش کرے گی اور اسے 24 گھنٹے کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی پابندی ہوگی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہیلتھ کئیر ریگولیٹری اتھارٹی (IHRAs) نے بھی ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت پر تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے۔ متوفی مریضہ عابدہ پروین کے بیٹے نے IHRAs کو درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد اتھارٹی نے پمز ہسپتال کے ڈاکٹر محمد اسرار سے سات روز میں جواب طلب کر رکھا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2026 ہائیکورٹ میں چیلنج پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2026 ہائیکورٹ میں چیلنج امریکا میں پاکستانیوں نے تاریخ رقم کردی، کیمبرج شہر کے میئر اور ڈپٹی میئر منتخب ایران میں جاری پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آگئی، مظاہرین کی فائرنگ سے 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق پرویز الہٰی سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر ہر ظالم اور مافیا کیلئے پنجاب کی زمین تنگ کردی ،کسی فتنےکو پنپنےکی اجازت نہیں دینگے: مریم نواز دادو: جعلی پولیس مقابلہ، جرم ثابت ہونے پر ایس ایچ او سمیت 10 اہلکاروں کو 7 سال قیدکی سزاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پمز ہسپتال اسلام آباد کی مبینہ
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔