پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی آئی اے کے 650 ارب روپے کے قرض کو ’بلیک ہول‘ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
پی آئی اے سی ایل کے 650 ارب روپے کے قرض کو ’بلیک ہول‘ قرار دیتے ہوئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یعنی پی اے سی نے فائنانس ڈویژن کی جانب سے قابلِ عمل ادائیگی حکمتِ عملی تیار نہ کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سید نوید قمر کی زیر صدارت پی اے سی کے اجلاس میں وزارتِ دفاع کے ایوی ایشن ڈویژن کے سال 24-2023 کے آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل محمد علی (ریٹائرڈ) نے کمیٹی کے ارکان کو آڈٹ رپورٹس میں اٹھائے گئے اعتراضات پر بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ مختلف آڈٹ رپورٹس میں جن واجبات کی نشاندہی کی گئی تھی، ان میں سے زیادہ تر پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ دفاعی کمیٹی کا اجلاس، کوئٹہ کے ہوائی کرایوں اضافے اور چترال پروازوں کی معطلی پر تشویش
ایئر وائس مارشل محمد عامر حیات، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ فائنانس ڈویژن نے تاحال پی آئی اے کے ان واجبات کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، جو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ میں رکھے گئے ہیں۔
اس پر چیئرمین کمیٹی نے ان واجبات کو ’بلیک ہول‘ قرار دیا۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ 2005 کے مطابق آڈٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مسافروں سے وصول کی گئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ایڈوانس ٹیکس، کٹوتی کی تاریخ سے 45 دن کے اندر سرکاری خزانے میں جمع کرانا لازم تھا۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے نجکاری میں حکومت کے ساتھ ہاتھ، شاہد خاقان کی کونسی پیشگوئی درست ثابت ہوئی؟
پی آئی اے کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے سال 2022 کے آڈٹ کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ انتظامیہ ٹیکسوں اور سرکاری واجبات کی بروقت ادائیگی نہیں کر رہی تھی، جس کے باعث واجبات میں نمایاں اضافہ ہوا اور ادارے کی موجودہ لیکویڈیٹی پوزیشن بھی متاثر ہوئی۔
وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے جواب میں بتایا کہ مجموعی 131.
مزید پڑھیں: نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس: پی آئی اے کے لیے عارف حبیب کنسورشیم کی بولی کی منظوری
کمیٹی نے پی آئی اے انتظامیہ کو 5 ارب روپے کی واجبات کی وصولی کی ہدایت کی۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ پی آئی اے کی دو متنازع جائیددایں جو وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ کے درمیان تنازع کا شکار تھیں، انہیں بھی پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
مذکورہ متنازع جائیدداوں میں ایک کے ڈی اے اسکیم-I، کارساز کراچی میں واقع فٹبال گراؤنڈ اور دوسرا لاڑکانہ میں قائم سمبارا اِن ہوٹل شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکیم آف ارینجمنٹ بلیک ہول پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پی آئی اے حکومت سندھ فائنانس ڈویژن فائنانس ڈیپارٹمنٹ ہولڈنگ کمپنی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکیم آف ارینجمنٹ بلیک ہول پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پی ا ئی اے حکومت سندھ فائنانس ڈویژن فائنانس ڈیپارٹمنٹ ہولڈنگ کمپنی ہولڈنگ کمپنی پی آئی اے بلیک ہول ارب روپے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔