مبینہ جعلی پولیس مقابلہ؛ سی ٹی ڈی افسران کیخلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنیکا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
راولپنڈی:
راولپنڈی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے معاملے میں عدالت نے سی ٹی ڈی کے افسران کے خلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبزادہ نقیب شہزاد نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شہری کو گھر سے گرفتار کر کے قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ وارث خان کے علاقے سے نعیم عرف گڈو کو 30 نومبر کو اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا، جسے بعد ازاں چکوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ مقتول کی بہن آسیہ بی بی کی جانب سے مقدمہ اندراج کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے سماعت کے بعد اہم احکامات جاری کیے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی بھی جرم میں سزا و جزا کا اختیار عدالتوں کو حاصل ہے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم کو گھر سے اغوا کیا گیا۔ فوٹیج میں پولیس اہلکار خطرناک اسلحہ پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ سی ٹی ڈی کے تمام ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔
عدالتی حکم کے مطابق انسپکٹر شفقت، انسپکٹر محسن شاہ، انسپکٹر سردار عاصم کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جبکہ کانسٹیبلان ملک عابد، عدنان، علی شاہ اور بلال شاہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو مقدمے میں نامزد کیا جائے۔
ایڈیشنل سیشن جج نے ایس ایچ او تھانہ وارث خان کو حکم دیا کہ ملزم کی گرفتاری سے متعلق فوٹیج کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جائے اور مقتول کی بہن آسیہ بی بی کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عدالت نے کیا جائے کے خلاف دیا کہ
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک