راولپنڈی:

راولپنڈی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے معاملے میں عدالت نے سی ٹی ڈی کے افسران کے خلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبزادہ نقیب شہزاد نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شہری کو گھر سے گرفتار کر کے قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ وارث خان کے علاقے سے نعیم عرف گڈو کو 30 نومبر کو اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا، جسے بعد ازاں چکوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ مقتول کی بہن آسیہ بی بی کی جانب سے مقدمہ اندراج کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے سماعت کے بعد اہم احکامات جاری کیے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی بھی جرم میں سزا و جزا کا اختیار عدالتوں کو حاصل ہے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم کو گھر سے اغوا کیا گیا۔ فوٹیج میں پولیس اہلکار خطرناک اسلحہ پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ سی ٹی ڈی کے تمام ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

عدالتی حکم کے مطابق انسپکٹر شفقت، انسپکٹر محسن شاہ، انسپکٹر سردار عاصم کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جبکہ کانسٹیبلان ملک عابد، عدنان، علی شاہ اور بلال شاہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو مقدمے میں نامزد کیا جائے۔

ایڈیشنل سیشن جج نے ایس ایچ او تھانہ وارث خان کو حکم دیا کہ ملزم کی گرفتاری سے متعلق فوٹیج کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جائے اور مقتول کی بہن آسیہ بی بی کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عدالت نے کیا جائے کے خلاف دیا کہ

پڑھیں:

راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل

راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار  کرلیا۔

پولیس کے مطابق  بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے  کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔

والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو  بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔

پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان  کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا