بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا اہم آپریشن، دہشتگرد ساجد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
کوئٹہ:(نیوزڈیسک) بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک اہم آپریشن کے دوران دہشتگرد ساجد احمد کو گرفتار کر لیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعزاز گورایہ نے کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار دہشتگرد ساجد احمد اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ پنجگور میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشتگرد کو گرفتار کیا۔وہ پنجگور سے تربت کی طرف بھاری مقدار میں اسلحہ منتقل کر رہا تھا اور سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کا مواد نشر کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ساجد احمد یونیورسٹی آف تربت میں بھی پڑھاتا رہا اور اس کی بھابھی بھی بی وائے سی کی کارروائیوں میں ملوث تھی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ سی ٹی ڈی نے اس کے علاوہ مزید تین دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے جن میں خاران کا رہائشی 18 سالہ سر فراز، جہانزیب مہربان اور ایک دہشتگرد بیزل شامل ہیں۔
ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ گزشتہ سال صوبے میں 730 سے زائد انسداد دہشتگردی آپریشنز کیے گئے۔ بلوچستان حکومت نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نیا ادارہ قائم کیا ہے اور پورے صوبے میں پولیس کی مضبوط عملداری موجود ہے۔ ہر ضلع میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ادارے کی شاخیں قائم کی جا رہی ہیں اور گزشتہ تین ماہ میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ بی وائے سی تاوان کا پیسہ طلبہ کے ذریعے منتقل کر رہی ہے اور دہشتگردی میں ملوث طلبہ کو بحالی مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ وفاق اور بلوچستان حکومت سی ٹی ڈی کو مزید فعال بنانے کے لیے فنڈز فراہم کر رہی ہیں تاکہ انسداد دہشتگردی کے اقدامات مؤثر طریقے سے جاری رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔