بنگلادیش،پاکستان: 14 سال بعد براہ راست پروازیں بحال، شیڈول جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان 14 سال بعد براہ راست پروازیں بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پروازوں کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش کی قومی ایئرلائن نے جمعرات کو بتایا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کی جارہی ہیں۔
بیمان بنگلا دیش ایئرلائنز کی پہلی ڈھاکا سے کراچی براہ راست پرواز 29 جنوری کو شیڈول ہے اور یہ ہفتے میں دو بار چلائی جائے گی، جو سال 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ پرواز ہوگی۔
ایئرلائن کی منیجر بشریٰ اسلام نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم ہفتہ وار دو پروازوں کے ساتھ ڈھاکا-کراچی روٹ دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔
بیمان بنگلا دیش ایئرلائنز نے ایک بیان میں کہا کہ ’براہ راست پروازوں کی بحالی سے بنگلا دیش اور پاکستان کے درمیان رابطوں میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے کاروباری سفر، سیاحت اور خاندانوں کے درمیان رابطوں میں مدد ملے گی۔‘
بنگلا دیش اور پاکستان کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو فی الحال دبئی اور دوحہ جیسے خلیجی مراکز کے ذریعے کنیکٹنگ فلائٹس استعمال کرنی پڑتی ہیں۔
نومبر 2024 میں کراچی سے بنگلا دیش کی اہم بندرگاہ چٹاگانگ کے لیے مال بردار بحری جہازوں نے بھی آمد و رفت دوبارہ شروع کر دی تھی۔
گزشتہ ماہ بنگلا دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کے ساتھ ملاقات کے دوران امید ظاہر کی تھی کہ کراچی اور ڈھاکا کے درمیان براہ راست پروازیں جنوری میں شروع ہو جائیں گی۔
معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور حکومت میں پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات متزلزل رہے۔ تاہم ان کی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت اور ان کی جلاوطنی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
حال ہی میں دسمبر میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے لیے ڈھاکا گئے تھے۔
اگست 2025 میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی ڈھاکا کا دورہ کیا تھا اور محمد یونس سے ملاقات کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: براہ راست پروازیں کے درمیان بنگلا دیش
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔