پی آئی اے کا لاہور سے لندن براہِ راست پروازوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
سٹی42: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے اسلام آباد کے بعد لاہور سے بھی برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازوں کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے، جس سے لاہور اور گرد و نواح کے مسافروں کو بڑا سہولت ملے گی۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے لندن کے لیے ہفتہ وار ایک پرواز آپریٹ کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ پی آئی اے مانچسٹر کے بعد اب لندن کے لیے پروازیں چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں لاہور سے لندن ہفتہ وار ایک پرواز زیر غور ہے، جس کا باقاعدہ آغاز 29 اور 30 مارچ سے متوقع ہے۔
گھڑ سواری میں پاکستان کا تاریخی اعزاز، عثمان خان عالمی رینکنگ میں سرفہرست
فلائٹ شیڈول کے مطابق 29 مارچ سے لندن سے لاہور کے لیے پرواز آپریٹ کی جائے گی، جبکہ 30 مارچ سے لاہور سے لندن کے لیے پرواز روانہ ہوگی۔ لندن سے لاہور پرواز بروز اتوار اور لاہور سے لندن پرواز بروز سوموار چلائی جائے گی۔
پی آئی اے حکام کے مطابق لاہور سے لندن روٹ پر بوئنگ 777 طیارہ استعمال کیا جائے گا جبکہ فلائٹ آپریشن کے لیے انتظامی اور تکنیکی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 لاہور سے لندن پی آئی اے سے لاہور کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔