لاہور خودکشی کوشش واقعہ: حنا پرویز بٹ کی جنرل اسپتال میں طالبہ سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور کی نجی یونیورسٹی میں مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے، چیئر پرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے اسپتال کا دورہ کرکے طالبہ اور اس کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔
اس موقع پر حنا پرویز بٹ نے کہا کہ زیرِ علاج طالبہ کو ہوش میں آنے کے بعد وینٹی لیٹر سے ہٹادیا گیا ہے، اب انکی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبہ کی جان بچانا اولین ترجیح ہے، جنرل اسپتال انتظامیہ علاج کے ہر مرحلے کی سخت مانیٹرنگ یقینی بنائے۔ طالبہ کو بہترین طبی، نفسیاتی اور ری ہیبلیٹیشن سہولیات فراہم کی جائیں۔
حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور گھریلو کشیدگی سمیت واقعے کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پسند کی شادی اور تعلیم سے متعلق دباؤ کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے، واقعے سے قبل آخری کال اور موبائل ریکارڈ کی فرانزک جانچ بھی کی جارہی ہے۔
چیئر پرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی نے کہا کہ اس واقعے سے قبل اور بعد کے تمام حقائق قانون کے مطابق سامنے لائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حنا پرویز بٹ کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔