data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے کہا ہے کہ وہ اپنے عملے کی غیر معمولی طور پر جلد واپسی پر غور کر رہی ہے، جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ایک مشن پر کام کر رہا ہے۔ اس کی وجہ صحت کا مسئلہ ہے، جس کی نوعیت واضح نہیں کی گئی اور یہ مسئلہ ایک خلاباز کو لاحق ہے۔ اس کے بعد جمعرات کے روز طے شدہ خلامیں سیر منسوخ کر دی گئی۔ ناسا کی ترجمان نے بتایا کہ جس خلاباز کو صحت کا مسئلہ درپیش ہے ،وہ اسٹیشن پر مستحکم حالت میں ہے، تاہم اس کا نام نہیں بتایا گیا۔ ترجمان نے بیان میں کہاکہ ہماری اولین ترجیح مشن کو محفوظ طریقے سے انجام دینا ہے، ہم ہر ممکنہ آپشن کا جائزہ لے رہے ہیں، جس میں کرو11 مشن کو جلد ختم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ ناسا نے پہلے جاری بیان میں کہا کہ ہم ایک عملے کے رکن میں صحت کے مسئلے کی پیروی کر رہے ہیں جو بدھ کی دوپہر ظاہر ہواتھا۔ خلاباز عام طور پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر 6سے 8ماہ قیام کرتے ہیں، جہاں ان کے لیے بنیادی طبی آلات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ادویات دستیاب ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ کرو11 عملے میں 4خلاباز ہیں،جن میں 2امریکی، ایک جاپانی اور ایک روسی ہے۔ یہ عملہ اگست میں فلوریڈا سے روانہ ہوا تھا اور ان کی اصل واپسی کا وقت مئی تھا۔ ناسا کے خلابازوں کے مطابق اسٹیشن پر صحت کی حالت ایک حساس معاملہ ہے، جسے افشا نہیں کیا جا سکتا اور خلاباز نادر ہی اپنی بیماری یا مسئلے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیشن پر

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا