گرین لینڈ کی برف تیزی سے پگھلنے لگی‘ دنیا بھر میں الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوک (انٹرنیشنل ڈیسک) گرین لینڈ کی وسیع برفانی چادر غیر معمولی رفتار سے پگھلنے لگی جس نے دنیا بھر میں ماہرین ماحولیات اور ساحلی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ۔ سائنس دانوں کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت برف کے تیز پگھلاؤ کا سبب بن رہا ہے، جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں نشیبی ساحلی علاقے، جزائر اور بڑے ساحلی شہر شدید خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ کئی ممالک نے ممکنہ سیلاب، زمینی کٹاؤ اور آبادیوں کے انخلا کے پیشِ نظر الرٹ جاری کر دیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور ماحولیاتی اداروں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ کاربن اخراج میں فوری کمی کی جائے،قابل تجدید توانائی کے ذرائع اپنائے جائیں اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔