روسی حملوں میں لاکھوں یوکرینی خاندان بجلی اور پانی سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) وسطی یوکرین کے علاقے دنیپروپیٹروفسک میں 10لاکھ سے زائد خاندان روسی حملوں کے باعث پانی اور بجلی سے محروم ہو گئے۔ ان حملوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کی تعمیر نو کے لیے نائب وزیرِ اعظم اولیکسی کولیبا نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ دنیپروپیٹروفسک کے علاقے میں مرمت کا کام جاری ہے ۔ بدھ کی شب روس کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دنیپروپیٹروفسک اور زاپوریزیا کے علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی اور ہزاروں افراد بجلی اور حرارت کے بغیر رہ گئے۔ حملوں کے وقت متاثرہ علاقوں میں درجہ حرارت صفر سے نیچے گر گیا تھا۔دنیپروپیٹروفسک کے گورنر ولادیسلاو گائیوانینکو کے مطابق حملے کے باعث توانائی کا اہم بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صورتحال مشکل ہے، لیکن جیسے ہی سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا۔ زاپوریزیا میں گورنر ایوان فیڈوروف کے مطابق اہم تنصیبات کو دوبارہ بجلی فراہم کر دی گئی ہے، تاہم زیادہ تر صارفین اب بھی بجلی کے بغیر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ جلد از جلد تمام صارفین کو بجلی فراہم کی جا سکے اور مزید بتایا کہ پانی کی فراہمی زیادہ تر بحال ہو چکی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ برسوں کی طرح اس موسم سرما میں بھی روس نے یوکرین کی توانائی تنصیبات پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جس کے باعث توانائی اور پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ کیف اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ شہری آبادی کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔