data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں رواں ماہ کے آغاز میں ہونے والی بجلی کی بڑی بندش کے ذمہ داروں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ 3 جنوری کو ہونے والی اس تخریبی کارروائی کے نتیجے میں شہر کے جنوب مغربی حصے میں تقریباً ایک لاکھ افراد کئی دن تک بجلی اور حرارت سے محروم ہیں۔

یہ حملہ لِشٹر فیلڈ پاور پلانٹ کو بجلی فراہم کرنے والی کیبلز کو نقصان پہنچا کر کیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم وولکانو گروپ  نے تحریری بیان کے ذریعے قبول کی۔ جرمن پولیس نے اس دعوے کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ بیان میں موجود اصل معلومات اس کی صداقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، تاہم تاحال کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔

 کونراڈ آڈیناور فاؤنڈیشن سے وابستہ دہشت گردی کے ماہر فیلکس نوئمن کے مطابق وولکانو گروپ ایک محدود اور خفیہ حلقے پر مشتمل ہے جو طویل عرصے تک اپنے اہداف کی نگرانی کرتا ہے اور ایسے مواقع کا انتخاب کرتا ہے جہاں شناخت کا امکان کم سے کم ہو۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے نہ موبائل فون استعمال کیے اور نہ ہی سیکیورٹی کیمروں کی زد میں آئے۔ جائے وقوعہ سے نہ فنگر پرنٹس ملے ہیں اور نہ ہی ڈی این اے شواہد۔ تفتیش کے دوران سینکڑوں گھنٹوں کی نگرانی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور درجنوں گواہوں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے، تاہم صرف چند بیانات کو ہی اہم قرار دیا گیا ہے۔

حملے کے بعد بعض سیاستدانوں کی جانب سے روس پر الزام عائد کیے جانے کے بعد وولکانو گروپ کے نام سے جاری ایک نئے بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہر تخریبی کارروائی کو غیر ملکی انٹیلی جنس سے جوڑنا اندرونی سماجی تنازعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ برلن کے نائب پولیس سربراہ مارکو لینگنر نے بھی روسی مداخلت کے امکان کو رد کر دیا ہے۔

 انڈیمیڈیا ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک تیسرے بیان میں، جو وولکانو گروپ سے منسوب ہے، 3 جنوری کے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی گئی ہے۔ حکام نے ابھی اس بیان کی تصدیق نہیں کی۔

جرمنی کے داخلی انٹیلی جنس ادارے کے مطابق، وولکانو گروپ 2011 سے برلن اور برانڈن برگ میں وقفے وقفے سے آتش زنی اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ تنظیم خود کو سرمایہ دارانہ نظام اور ماحولیاتی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد سے جوڑتی ہے۔

اس واقعے کے بعد وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر نے دہشت گردی کے شبہے میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ بجلی کی مکمل بحالی پانچ دن بعد ممکن ہو سکی۔ اس دوران ایک 83 سالہ خاتون اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں، تاہم پولیس کے مطابق ان کی موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان