برلن میں بجلی کی بڑی بندش: پولیس کو تاحال ذمہ داروں کا سراغ نہ مل سکا
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں رواں ماہ کے آغاز میں ہونے والی بجلی کی بڑی بندش کے ذمہ داروں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ 3 جنوری کو ہونے والی اس تخریبی کارروائی کے نتیجے میں شہر کے جنوب مغربی حصے میں تقریباً ایک لاکھ افراد کئی دن تک بجلی اور حرارت سے محروم ہیں۔
یہ حملہ لِشٹر فیلڈ پاور پلانٹ کو بجلی فراہم کرنے والی کیبلز کو نقصان پہنچا کر کیا گیا تھا، جس کی ذمہ داری بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم وولکانو گروپ نے تحریری بیان کے ذریعے قبول کی۔ جرمن پولیس نے اس دعوے کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیان میں موجود اصل معلومات اس کی صداقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، تاہم تاحال کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔
کونراڈ آڈیناور فاؤنڈیشن سے وابستہ دہشت گردی کے ماہر فیلکس نوئمن کے مطابق وولکانو گروپ ایک محدود اور خفیہ حلقے پر مشتمل ہے جو طویل عرصے تک اپنے اہداف کی نگرانی کرتا ہے اور ایسے مواقع کا انتخاب کرتا ہے جہاں شناخت کا امکان کم سے کم ہو۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے نہ موبائل فون استعمال کیے اور نہ ہی سیکیورٹی کیمروں کی زد میں آئے۔ جائے وقوعہ سے نہ فنگر پرنٹس ملے ہیں اور نہ ہی ڈی این اے شواہد۔ تفتیش کے دوران سینکڑوں گھنٹوں کی نگرانی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور درجنوں گواہوں سے پوچھ گچھ کی گئی ہے، تاہم صرف چند بیانات کو ہی اہم قرار دیا گیا ہے۔
حملے کے بعد بعض سیاستدانوں کی جانب سے روس پر الزام عائد کیے جانے کے بعد وولکانو گروپ کے نام سے جاری ایک نئے بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہر تخریبی کارروائی کو غیر ملکی انٹیلی جنس سے جوڑنا اندرونی سماجی تنازعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ برلن کے نائب پولیس سربراہ مارکو لینگنر نے بھی روسی مداخلت کے امکان کو رد کر دیا ہے۔
انڈیمیڈیا ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک تیسرے بیان میں، جو وولکانو گروپ سے منسوب ہے، 3 جنوری کے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی گئی ہے۔ حکام نے ابھی اس بیان کی تصدیق نہیں کی۔
جرمنی کے داخلی انٹیلی جنس ادارے کے مطابق، وولکانو گروپ 2011 سے برلن اور برانڈن برگ میں وقفے وقفے سے آتش زنی اور تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ تنظیم خود کو سرمایہ دارانہ نظام اور ماحولیاتی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد سے جوڑتی ہے۔
اس واقعے کے بعد وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر نے دہشت گردی کے شبہے میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ بجلی کی مکمل بحالی پانچ دن بعد ممکن ہو سکی۔ اس دوران ایک 83 سالہ خاتون اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں، تاہم پولیس کے مطابق ان کی موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان
پشاور (بیورو رپورٹ) الیکشن کمشن نے خیبر پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا۔ صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کر لیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمشن جلد خیبر پی کے حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا۔ بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026ء میں مکمل ہو چکی ہے۔ الیکشن کمشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کرانے کے لیے تیار ہے۔ چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمشن کو آگاہ کریں گے۔