Jasarat News:
2026-07-24@02:05:06 GMT

رخصت ورعایت

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

محمد بن منکدر سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے امیمۃ بنت رقیقۃ کو کہتے سنا: میں کچھ عورتوں کے ساتھ نبیؐ کے پاس بیعت کرنے آئی، آپؐ نے ہم سے بیعت لیتے ہوئے فرمایا: جس کی تم استطاعت اور طاقت رکھو۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہمارے ساتھ اس سے زیادہ مہربان ہیں جتنا خود ہم اپنے ساتھ ہیں (سنن ابن ماجہ)۔
اطاعت کا عہد لینے والا جب خود یہ شرط لگائے کہ اسی حد تک اطاعت کرنا جس حد تک استطاعت ہو، تو یہ ضرور تعجب خیز مسرت کی بات ہے۔
استطاعت کے حدود کے اندر حکم جاری کرنا ایک بڑی مہربانی ہے، اور حکم کی اطاعت کے ساتھ استطاعت کی شرط اپنی طرف سے لگادینا ایک اور بڑی مہربانی ہے، قرآن وسنت کا مطالعہ کرتے ہوئے دین کے احکام میں اللہ تعالی کی یہ دونوں مہربانیاں بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔

اسلام کا بہت نمایاں امتیاز ہے کہ وہ دین رحمت ہے، اور قرآن مجید کی بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ از اول تا آخر کتاب رحمت ہے، قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے ہر لحظہ انسان اپنے آپ کو رحمت کے آغوش میں پاتا ہے۔ اللہ کی کتاب اللہ کی بے پایاں رحمت کا حسین وجمیل اظہار ہے، اس میں جو احکام دیے گئے ہیں وہ سب احکام رحمت ہیں، ان احکام کو جس اسلوب میں بیان کیا گیا ہے، وہ اسلوب بیان خود ان احکام پر چھائی ہوئی رحمت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس تحریر سے اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ قرآن مجید کے اسلوب رحمت کو ہمارے یہاں دینی تعلیم ودعوت کا اسلوب بنایا جائے، بندوں کے ساتھ جو رحمت ونرمی احکام الہی کے اصل متن میں نظر آتی ہے، اسلوب وانداز کی وہی رحمت ونرمی احکام الہی کی ترجمانی کرنے والے معلمین، مبلغین اور اہل دعوت وافتاء کے یہاں بھی عام ہوجائے۔ ایسا تضاد ہرگز مناسب نہیں ہے کہ کتاب الہی کی تعلیمات رحمت کے دل نواز اسلوب میں ہوں، اور اسی کتاب الہی کی ہماری ترجمانی محبت ونرمی سے عاری اور سختی ودرشتی سے آلودہ نظر آئے۔

اس تحریر کا ایک اور مقصد دین کے ایک اہم پہلو کی طرف متوجہ کرنا ہے، وہ یہ کہ دین کی دو سطحیں ہیں، ایک سطح عام حالات میں عمل کرنے کی ہے، اور ایک سطح مخصوص حالات میں عمل کرنے کی ہے، جب عام حالات والی سطح پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا زیادہ دشوار ہو۔ اسلام بے دینی کی گنجائش نہیں رکھتا ہے، وہ ہر حال میں دین پر عمل پیرا رہنا لازم قرار دیتا ہے، البتہ دشواری کی صورت میں وہ حسب حال آسان صورتیں پیش کرتا ہے، اس سے بے دینی کے لیے کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا ہے۔ اگر عوام میں دین کی دونوں سطحوں کا علم پختہ ہوجائے تو وہ کسی بے چینی اور اضطراب کے بغیر حسب حال دین پر عمل پیرا رہ سکیں گے۔ اور دین حق سے نہ کسی کو شکایت کا جواز ملے گا، اور نہ ہی اس پر کسی طرح کا اعتراض چسپاں ہوسکے گا۔ ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ دنیا کی تخلیق اور صورت گری اللہ نے کی ہے اور ہدایت بھی اللہ نے بھیجی ہے، دنیا کے حالات اللہ نے دو طرح کے رکھے ہیں، معمول کے حالات جن میں زندگی گزارنا آسان ہوتا ہے اور معمول سے ہٹے ہوئے حالات جن میں زندگی گزارنا مشقت طلب ہوتا ہے، حالات کی دو قسموں کی طرح اللہ نے دین کے احکام بھی دو طرح کے دیے ہیں، معمول کے حالات میں انجام دیے جانے والے احکام اور معمول سے ہٹے ہوئے حالات میں انجام دیے جانے والے احکام۔ زندگی کے حالات کے تناظر میں دین کے احکام کو دیکھنے سے دین پر ایمان ویقین کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں کی نگاہوں سے یہ پہلو اوجھل رہتا ہے، یا وہ جان بوجھ کر اس سے تجاہل برتتے ہیں، وہ کورونا جیسے حالات میں اس طرح شور مچاتے ہیں گویا دین کے خلاف کوئی بڑی حجت ان کے ہاتھ آگئی۔

درحقیقت یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے اور اس کے دین حق کی بڑی خصوصیت ہے کہ اس نے بندوں سے اطاعت بشرط استطاعت، بقدر استطاعت اور بشکل استطاعت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس طرح اس دین کو زمان ومکان اور حالات سے مکمل ہم آہنگی کی صفت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ قیامت تک آنے والے تمام حالات کے لیے قابل عمل رہتا ہے۔ موجودہ حالات میں دین کے اس روشن پہلو کو لوگوں کے سامنے پوری وضاحت کے ساتھ لانا بہت ضروری ہوگیا ہے، تاکہ حالات سے مایوسی اور دین سے بے تعلقی پھیلنے کے بجائے دین سے رغبت اور رب رحیم کی طرف انابت بڑھے۔

محی الدین غازی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حالات میں کے حالات کے ساتھ اللہ نے نے والے دین کے ہے اور

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت