Jasarat News:
2026-06-02@23:57:01 GMT

رخصت ورعایت

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

محمد بن منکدر سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے امیمۃ بنت رقیقۃ کو کہتے سنا: میں کچھ عورتوں کے ساتھ نبیؐ کے پاس بیعت کرنے آئی، آپؐ نے ہم سے بیعت لیتے ہوئے فرمایا: جس کی تم استطاعت اور طاقت رکھو۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہمارے ساتھ اس سے زیادہ مہربان ہیں جتنا خود ہم اپنے ساتھ ہیں (سنن ابن ماجہ)۔
اطاعت کا عہد لینے والا جب خود یہ شرط لگائے کہ اسی حد تک اطاعت کرنا جس حد تک استطاعت ہو، تو یہ ضرور تعجب خیز مسرت کی بات ہے۔
استطاعت کے حدود کے اندر حکم جاری کرنا ایک بڑی مہربانی ہے، اور حکم کی اطاعت کے ساتھ استطاعت کی شرط اپنی طرف سے لگادینا ایک اور بڑی مہربانی ہے، قرآن وسنت کا مطالعہ کرتے ہوئے دین کے احکام میں اللہ تعالی کی یہ دونوں مہربانیاں بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔

اسلام کا بہت نمایاں امتیاز ہے کہ وہ دین رحمت ہے، اور قرآن مجید کی بہت بڑی خوبی ہے کہ وہ از اول تا آخر کتاب رحمت ہے، قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے ہر لحظہ انسان اپنے آپ کو رحمت کے آغوش میں پاتا ہے۔ اللہ کی کتاب اللہ کی بے پایاں رحمت کا حسین وجمیل اظہار ہے، اس میں جو احکام دیے گئے ہیں وہ سب احکام رحمت ہیں، ان احکام کو جس اسلوب میں بیان کیا گیا ہے، وہ اسلوب بیان خود ان احکام پر چھائی ہوئی رحمت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس تحریر سے اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ قرآن مجید کے اسلوب رحمت کو ہمارے یہاں دینی تعلیم ودعوت کا اسلوب بنایا جائے، بندوں کے ساتھ جو رحمت ونرمی احکام الہی کے اصل متن میں نظر آتی ہے، اسلوب وانداز کی وہی رحمت ونرمی احکام الہی کی ترجمانی کرنے والے معلمین، مبلغین اور اہل دعوت وافتاء کے یہاں بھی عام ہوجائے۔ ایسا تضاد ہرگز مناسب نہیں ہے کہ کتاب الہی کی تعلیمات رحمت کے دل نواز اسلوب میں ہوں، اور اسی کتاب الہی کی ہماری ترجمانی محبت ونرمی سے عاری اور سختی ودرشتی سے آلودہ نظر آئے۔

اس تحریر کا ایک اور مقصد دین کے ایک اہم پہلو کی طرف متوجہ کرنا ہے، وہ یہ کہ دین کی دو سطحیں ہیں، ایک سطح عام حالات میں عمل کرنے کی ہے، اور ایک سطح مخصوص حالات میں عمل کرنے کی ہے، جب عام حالات والی سطح پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا زیادہ دشوار ہو۔ اسلام بے دینی کی گنجائش نہیں رکھتا ہے، وہ ہر حال میں دین پر عمل پیرا رہنا لازم قرار دیتا ہے، البتہ دشواری کی صورت میں وہ حسب حال آسان صورتیں پیش کرتا ہے، اس سے بے دینی کے لیے کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا ہے۔ اگر عوام میں دین کی دونوں سطحوں کا علم پختہ ہوجائے تو وہ کسی بے چینی اور اضطراب کے بغیر حسب حال دین پر عمل پیرا رہ سکیں گے۔ اور دین حق سے نہ کسی کو شکایت کا جواز ملے گا، اور نہ ہی اس پر کسی طرح کا اعتراض چسپاں ہوسکے گا۔ ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ دنیا کی تخلیق اور صورت گری اللہ نے کی ہے اور ہدایت بھی اللہ نے بھیجی ہے، دنیا کے حالات اللہ نے دو طرح کے رکھے ہیں، معمول کے حالات جن میں زندگی گزارنا آسان ہوتا ہے اور معمول سے ہٹے ہوئے حالات جن میں زندگی گزارنا مشقت طلب ہوتا ہے، حالات کی دو قسموں کی طرح اللہ نے دین کے احکام بھی دو طرح کے دیے ہیں، معمول کے حالات میں انجام دیے جانے والے احکام اور معمول سے ہٹے ہوئے حالات میں انجام دیے جانے والے احکام۔ زندگی کے حالات کے تناظر میں دین کے احکام کو دیکھنے سے دین پر ایمان ویقین کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں کی نگاہوں سے یہ پہلو اوجھل رہتا ہے، یا وہ جان بوجھ کر اس سے تجاہل برتتے ہیں، وہ کورونا جیسے حالات میں اس طرح شور مچاتے ہیں گویا دین کے خلاف کوئی بڑی حجت ان کے ہاتھ آگئی۔

درحقیقت یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے اور اس کے دین حق کی بڑی خصوصیت ہے کہ اس نے بندوں سے اطاعت بشرط استطاعت، بقدر استطاعت اور بشکل استطاعت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس طرح اس دین کو زمان ومکان اور حالات سے مکمل ہم آہنگی کی صفت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ قیامت تک آنے والے تمام حالات کے لیے قابل عمل رہتا ہے۔ موجودہ حالات میں دین کے اس روشن پہلو کو لوگوں کے سامنے پوری وضاحت کے ساتھ لانا بہت ضروری ہوگیا ہے، تاکہ حالات سے مایوسی اور دین سے بے تعلقی پھیلنے کے بجائے دین سے رغبت اور رب رحیم کی طرف انابت بڑھے۔

محی الدین غازی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حالات میں کے حالات کے ساتھ اللہ نے نے والے دین کے ہے اور

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر