نئی دہلی: مسجد کے قریب انہدامی کارروائی کے بعد حالات کشیدہ، جھڑپیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں رام لیلا میدان کے قریب ایک مسجد کے اطراف تجاوزات کے خلاف جاری انہدامی کارروائی کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران کم از کم 5 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق بعد ازاں صورتحال پر قابو پا لیا گیا اور علاقے میں معمول بحال ہو چکا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن آف دہلی نے ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ترکمان گیٹ کے علاقے میں سید فیض الٰہی مسجد اور قریبی قبرستان سے متصل زمین پر تجاوزات ہٹانے کی کارروائی شروع کی تھی، اس دوران جے سی بی مشینری کے پہنچنے پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے، جس کے باعث فضا کشیدہ ہونے لگی۔ پولیس کے مطابق ابتدا میں زیادہ تر افراد کو بات چیت کے ذریعے منتشر کر دیا گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر پولیس (سینٹرل) ندھِن والسَن کے مطابق یہ کارروائی 6 اور 7 جنوری کی درمیانی شب کے لیے طے کی گئی تھی اور پولیس نفری پہلے ہی تعینات تھی، تاہم صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب چند افراد نے پتھراؤ شروع کر دیا، جس سے پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آنسو گیس کے استعمال کے بعد حالات قابو میں آ گئے اور امن و امان بحال ہو گیا۔ زخمی ہونے والے تمام پولیس اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں اور انہیں اسپتال منتقل کر کے ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ پولیس کے مطابق واقعے سے متعلق قانونی کارروائی میڈیکل رپورٹس اور بیانات مکمل ہونے کے بعد عمل میں لائی جائے گی جب کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق عدالتی حکم کے تحت مسجد کے قریب واقع ایک بینکوئٹ ہال اور ایک ڈسپنسری کو تجاوزات قرار دے کر منہدم کیا جا رہا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایم سی ڈی نے کارروائی سے قبل پولیس کو مکمل طور پر آگاہ کیا تھا اور علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لیے مقامی امن کمیٹیوں سے بھی رابطہ رکھا گیا تھا۔ حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔