Jasarat News:
2026-06-03@00:53:42 GMT

افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مغربی تہذیب کی بنیاد
عقلیت (rationalism) اور فطریت (naturalism) یہ دو چیزیں ہیں جن کا اشتہار گزشتہ دو صدیوں سے مغربی تہذیب بڑے زور شور سے دے رہی ہے۔ اشتہار کی طاقت سے کون انکار کرسکتا ہے؟ جس چیز کو پیہم اور مسلسل اور بکثرت نگاہوں کے سامنے لایا جائے اور کانوں پر مسلط کیا جائے اس کے اثر سے انسان اپنے دل اور دماغ کو کہاں تک بچاتا رہے گا۔ بالآخر اشتہار کے زور سے دنیا نے یہ بھی تسلیم کرلیا کہ مغربی علوم اور مغربی تمدن کی بنیاد سراسر عقلیت اور فطریت پر ہے۔ حالانکہ مغربی تہذیب کے تنقیدی مطالعے سے یہ حقیقت بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ اس کی بنیاد نہ عقلیت پر ہے نہ اصولِ فطرت کی متابعت (پیروی) پر‘ بلکہ اس کے برعکس اس کا پورا ڈھچر (خاکہ) حِسّ اور خواہش اور ضرورت پر قائم ہے، اور مغربی نشاۃ جدیدہ (نئی زندگی عروج) دراصل عقل اور فطرت کے خلاف ایک بغاوت تھی۔ اس نے معقولات کو چھوڑ کر محسوسات اور مادیت کی طرف رجوع کیا۔ عقل کے بجائے حس پر اعتماد کیا۔ عقلی ہدایات اور منطقی استدلال اور فطری وجدان کو رد کرکے محسوس مادی نتائج کو اصلی و حقیقی معیار قرار دیا۔ فطرت کی رہنمائی کو مردود ٹھہرا کر خواہش اور ضرورت کو اپنا رہنما بنایا۔ ہر اُس چیز کو بے اصل سمجھا جو ناپ اور تول میں نہ آسکتی ہو۔ ہر اُس چیز کو ہیچ اور ناقابل اعتنا قرار دیا جس پر کوئی محسوس مادی منفعت مترتب نہ ہوتی ہو۔ ابتدا میں یہ حقیقت خود اہل مغرب سے چھپی ہوتی تھی‘ اس لیے وہ عقل اور فطرت کے خلاف چلنے کے باوجود یہی سمجھتے رہے کہ انھوں نے جس روشن خیالی کے دور جدید کا افتتاح کیا ہے اس کی بنیاد ’عقلیت‘ اور فطرت پر ہے۔ بعد میں اصل حقیقت کھلی، مگر اعتراف کی جرأت نہ ہوئی۔ مادہ پرستی‘ اور خواہشات کی غلامی‘ اور مطالباتِ نفس و جسد کی بندگی پر منافقت کے ساتھ عقلی استدلال اور ادعائے فطریت (فطری ہونے کے دعوے) کے پردے ڈالے جاتے رہے، لیکن اب انگریزی محاورے کے مطابق ’بلی تھیلے سے بالکل باہر آچکی ہے‘ غیر معقولیت اور خلاف ورزی فطرت کی لے اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس پر کوئی پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ اس لیے اب کھلم کھلا عقل اور فطرت دونوں سے بغاوت کا اعلان کیا جارہا ہے۔ علم اور حکمت کی مقدس فضا سے لے کر معاشرت‘ معیشت اور سیاست تک ہر جگہ بغاوت کا علم بلند ہو چکا ہے اور ’قدامت پرست‘ منافقین کی ایک جماعت کو مستثنیٰ کر کے دنیائے جدید کے تمام رہنما اپنی تہذیب پر صرف خواہش اور ضرورت کی حکمرانی تسلیم کررہے ہیں۔
٭—٭—٭

ایک طرف ’عقلیت‘ کا اس قدر زبردست دعویٰ ہے اور دوسری طرف ’’غیر عقلیت‘‘ کا ایسا شدید مظاہرہ ہے۔ صرف یہی دو فقرے جو قلم مبارک سے نکلے ہیں اس امر کی شہادت دے رہے ہیں کہ آپ نے اپنی صحیح حیثیت ہی متعین نہیں کی۔ اگر آپ مسلم کی حیثیت سے بول رہے ہیں تو آپ کو سب سے پہلے ’نقل‘ کے آگے سر جھکانا چاہیے۔ پھر عقلی حجت کا مطالبہ کرنے کا حق آپ کو ہوگا‘ اور وہ بھی شرط اطاعت کے طور پر نہیں بلکہ محض اطمینان قلب کے لیے، اور اگر آپ اطاعت سے پہلے حجت عقلی کے طالب ہیں اور یہ شرط اطاعت ہے تو آپ کو مسلم کی حیثیت سے بولنے کا ہی حق نہیں ہے۔ اس نوع کے طالب حجت کو پہلے ایک غیر مسلم کی حیثیت اختیار کرنی چاہیے۔ پھر اس کو یہ حق تو حاصل ہوگا کہ جس مسئلے پر چاہے اعتراض کرے‘ مگر یہ حق نہ ہوگا کہ مسلمانوں کے کسی امردینی میں مفتی اسلام بن کر فتویٰ صادر کرے۔ آپ ایک ہی وقت میں ان دونوں متضاد حیثیتوں کو اختیار کرتے ہیں اور ایک حیثیت کے بھی عقلی لوازم پورے نہیں کرتے۔ ایک طرف آپ نہ صرف ’مسلم‘ بلکہ مفتیِ اسلام بنتے ہیں، دوسری طرف آپ کا حال یہ ہے کہ ’نقل‘ کو آپ ہیچ سمجھتے ہیں۔ (تنقیحات)

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی بنیاد اور فطرت

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی