پنجاب حکومت کا بڑے پیمانے پر ڈاؤن سائزنگ کا فیصلہ، مختلف محکموں کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
لاہور:پنجاب کی صوبائی حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی اور انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد سرکاری محکموں میں ڈاؤن سائزنگ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت پنجاب نے پانچ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جو مختلف محکموں میں موجود اضافی ملازمین، خالی آسامیوں اور مجموعی انتظامی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاؤن سائزنگ سے متعلق قائم کی گئی کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب کریں گے۔ کمیٹی میں سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس، ایڈیشنل سیکریٹری فنانس، ایک ایڈیشنل سیکریٹری جبکہ ایک نمائندہ متعلقہ محکموں کی جانب سے نامزد کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کمیٹی کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے تاکہ وہ آزادانہ طور پر جائزہ لے سکے اور ضروری فیصلے تجویز کر سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کا بنیادی کام تمام سرکاری اداروں میں موجود اضافی افرادی قوت کی نشاندہی کرنا، غیر ضروری یا خالی آسامیوں کو ختم کرنا اور ایسے محکموں کی نشاندہی کرنا ہے جہاں وسائل کا درست استعمال نہیں ہو رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی سرکاری نظام کو مؤثر، شفاف اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع سفارشات بھی مرتب کرے گی۔
صوبائی حکام کے مطابق ڈاؤن سائزنگ کا یہ اقدام مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، ترقیاتی اخراجات کے لیے وسائل پیدا کرنے اور سرکاری مشینری کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کئی محکموں میں دہائیوں سے خالی اسامیاں برقرار ہیں یا اضافی ملازمین تعینات ہیں، جس سے قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ڈاؤن سائزنگ کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ملازمین کے قانونی و معاشی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق کمیٹی جلد اپنی ابتدائی رپورٹ مرتب کرے گی جس کی روشنی میں حتمی فیصلے کیے جائیں گے، جبکہ اس عمل کو مرحلہ وار مکمل کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈاؤن سائزنگ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔