حالات کو بند گلی میں جانے سے بچائیں!
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد میں ’’قومی مذاکراتی کمیٹی‘‘ کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ، تحریک انصاف کے شیر افضل مروت، سابق وفاقی وزرا وسیم شہزاد، فواد چودھری، محمود مولوی اور بیرسٹر سیف سمیت اہم سیاسی رہنمائوں، دانشوروں اور صحافتی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور نواز لیگ کے صدر، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے لیے سیاسی کارکن رہا، مقدمات ختم کیے جائیں، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، سیاسی کارکنوں کی رہائی کے بعد حکومت پر اعتماد بڑھے گا، میڈیا کی سنسر شپ ختم کی جائے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اپوزیشن کمیٹی بنائی جائے جو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو بڑھائے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہو گا محمد علی درانی (سابق وزیر اطلاعات) نے کہا کہ اگر ڈائیلاگ مسلسل چلتا رہے تو یقینا مثبت نتائج نکلیں گے، اصل ایشو عمران اور حکمرانوں کا ہے، 73 سے اب تک 80 فی صد قرضے حکمران فیملیز نے لیے ہائبرڈ حکومتوں کی تاریخ عبرتناک رہی ہے، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے فائدہ اٹھایا تھا۔ صدر، وزیر اعظم، میاں نواز شریف جیل میں بند لوگوں سے مذاکرات کریں، مفاہمت کے بغیر ملک کا مسئلہ حل نہیں ہو گا، تکرار مسائل کا حل نہیں۔ لیاقت بلوچ (مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی) نے کہا کہ ملک کو مثبت سرگرمی کی ضرورت ہے، قومی مکالمے کی طرف اہم قدم اٹھایا گیا شکوک و شبہات میں کوئی ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں، سیاسی استحکام ملک کی ضرورت ہے، سیاسی رہنمائوں، خواتین کی رہائی ہونی چاہیے، سزائوں سے کشیدگی بڑھ رہی ہے، درجہ حرارت کو کم کرنا ضروری ہے، الیکشن کمیشن آزاد ہونا چاہیے اس کا مینڈیٹ تسلیم کیا جانا چاہیے، اسی سے پائیدار جمہوریت کا راستہ نکلے گا، سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں۔ سابق وزیر داخلہ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہیں، دنیا میں ایک ورلڈ آرڈر جنگل کے قانون کی طرف جا رہا ہے، ایران، یوکرین، اور وینزویلا سب جگہ یہی معیار کار فرما ہے۔ مکالمے کی اہمیت بڑھ گئی، شخصیت پرستی کے بھنور سے باہر آنا ہو گا۔ ہمیں کم سے کم نکات پر نیشنل ایجنڈے پر اتفاق کرنا ہو گا۔ سابق گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ کوشش ہے کہ سیاسی ٹمپریچر کو نیچے لایا جائے، جنگ میں انڈیا کو شکست کے بعد دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے، لیکن پاکستان کے معاشی حالات بہتر نہیں اس کے لیے ایک با مقصد ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں ہمیں فورسز کا ساتھ دینا چاہیے، حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ قوم تقسیم ہے، دو فریق ہیں ان کو کیسے اکٹھا کیا جائے گا کیونکہ کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے، وسیم اختر (ایم کیو ایم) نے کہا کہ ہمیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے یہ اچھا اقدام ہے، جن لوگوں کو یہاں ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہیں، بہت ہو گیا سیاستدان پاکستان کی ترقی میں آڑے آ رہے ہیں، شیر افضل مروت (ایم این اے تحریک انصاف) نے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ، بے انصافی سے تحفظ، اب قومی سلامتی کے ایشوز بن گئے، عالمی رابطہ سے معیار میں 142 ملکوں میں ہم 129 ویں نمبر پر ہیں میں گواہ ہوں کہ ہمارے اسٹیبلشمنٹ سے ڈائیلاگ ہوتے رہے، عمران نے کبھی ڈائیلاگ سے انکار نہیں کیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی میں نامزد قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مذاکرات سے متعلق سماجی ذریعہ ابلاغ ’ایکس‘ پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ کس چیز کے مذاکرات؟ کسی نے میرے گھر پر ڈاکا ڈالا ہے اب اگر اس کے ساتھ مذاکرات کرنا ہیں تو وہ صرف اس بات پر ہوں گے کہ میرا لوٹا ہوا سامان واپس کر دو، البتہ اس میں کچھ کمی وغیرہ ہو تو ہم معاف کر دیتے ہیں، اگر کوئی اس معاملہ میں مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔ تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے بھی موقف اختیار کیا ہے کہ اس وقت حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات کا کوئی ماحول نہیں، نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف مذاکرات کی حامی ہے مگر اس معاملہ میں کوئی روشنی نظر نہیں آتی، آئین کی دفعہ 17 کے تحت ہر سیاسی جماعت کو سیاست کرنے کا حق ہے مگر ہماری جماعت کو کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں۔ دوسری جانب اطلاعات یہ ہیں کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات کے ضمن میں گرین سگنل دے دیا ہے اور حکومتی وفد بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم حکومت کی طرف سے شرط عائد کی گئی ہے کہ مذاکرات تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں ہی سے ہوں گے غیر منتخب لوگوں سے بات چیت نہیں کی جائے گی جب کہ اسپیکر کے قریبی ذرائع کے مطابق تاحال تحریک انصاف کی طرف سے کسی رہنما نے مذاکرات کے لیے باضابطہ رابطہ نہیں کیا ہے۔ حزب اختلاف نے رضا مندی کا اظہار کیا تو اسپیکر فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے، سیاست میں ان کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور بلاشبہ اس ضمن میں زیادہ ذمے داری بھی حکومت وقت ہی پر عائد ہوتی ہے تاہم فریق ثانی یا حزب اختلاف کی ذمے داری بھی کچھ کم نہیں کیونکہ مذاکرات کی تالی بہرحال دونوں ہاتھوں سے بختی ہے اور کسی ایک فریق کے عدم تعاون اور رضا مندی کے بغیر مذاکرات کی بیل کا منڈھے چڑھنا محال ہے موجودہ صورت حال میں حکومت کی جانب سے اگرچہ مذاکرات کی پیشکش بھی کی گئی ہے اور وزیر اعظم نے اسپیکر کو مذاکراتی سلسلہ آگے بڑھانے کا اختیار بھی انہیں دیا ہے جب کہ تحریک انصاف میں مذاکرات سے متعلق واضح اختلاف رائے سامنے آ رہا ہے تحریک میں ایک حصہ اگر مذاکرات کا حامی ہے تو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے موجودہ حکمرانوں سے مذاکرات کو بے مقصد اور بے معنی قرار دیا جا رہا ہے اور ان کی رائے میں یقینا وزن بھی ہے پہلی بات تو یہ کہ ایک جانب حکومت مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے تو دوسری جانب تحریک کے بانی، ان کی اہلیہ اور دوسرے رہنمائوں کو سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ تحریک کی قیادت اس لیے بھی مذاکرات کو آگے بڑھانے سے انکاری ہے کہ موجودہ حکومت کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی، تمام اختیارات مقتدرہ کے پاس ہیں وہ جب چاہے گی مذاکراتی عمل کو بے نتیجہ ختم کرا دے گی۔ یہ دلائل اپنی جگہ درست ہیں تاہم حالات کو بند گلی میں جانے سے بچانے اور سیاسی درجہ حرارت کو اعتدال پر رکھنے کیلیے بہرحال مذاکرات لازم ہیں۔ ہاں ان کو سنجیدہ اور نتیجہ خیز بنانے کیلیے متعلقہ حلقوں سے ضروری یقین دہانیوں کا تقاضا ضرور کیا جاسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے کی ضرورت ہے مذاکرات کے مذاکرات کی نے کہا کہ کے ساتھ نہیں کی کی طرف کے لیے کیا جا ہے اور
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔