Jasarat News:
2026-07-24@01:25:20 GMT

حالات کو بند گلی میں جانے سے بچائیں!

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد میں ’’قومی مذاکراتی کمیٹی‘‘ کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ، تحریک انصاف کے شیر افضل مروت، سابق وفاقی وزرا وسیم شہزاد، فواد چودھری، محمود مولوی اور بیرسٹر سیف سمیت اہم سیاسی رہنمائوں، دانشوروں اور صحافتی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور نواز لیگ کے صدر، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے لیے سیاسی کارکن رہا، مقدمات ختم کیے جائیں، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، سیاسی کارکنوں کی رہائی کے بعد حکومت پر اعتماد بڑھے گا، میڈیا کی سنسر شپ ختم کی جائے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اپوزیشن کمیٹی بنائی جائے جو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو بڑھائے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہو گا محمد علی درانی (سابق وزیر اطلاعات) نے کہا کہ اگر ڈائیلاگ مسلسل چلتا رہے تو یقینا مثبت نتائج نکلیں گے، اصل ایشو عمران اور حکمرانوں کا ہے، 73 سے اب تک 80 فی صد قرضے حکمران فیملیز نے لیے ہائبرڈ حکومتوں کی تاریخ عبرتناک رہی ہے، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے فائدہ اٹھایا تھا۔ صدر، وزیر اعظم، میاں نواز شریف جیل میں بند لوگوں سے مذاکرات کریں، مفاہمت کے بغیر ملک کا مسئلہ حل نہیں ہو گا، تکرار مسائل کا حل نہیں۔ لیاقت بلوچ (مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی) نے کہا کہ ملک کو مثبت سرگرمی کی ضرورت ہے، قومی مکالمے کی طرف اہم قدم اٹھایا گیا شکوک و شبہات میں کوئی ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں، سیاسی استحکام ملک کی ضرورت ہے، سیاسی رہنمائوں، خواتین کی رہائی ہونی چاہیے، سزائوں سے کشیدگی بڑھ رہی ہے، درجہ حرارت کو کم کرنا ضروری ہے، الیکشن کمیشن آزاد ہونا چاہیے اس کا مینڈیٹ تسلیم کیا جانا چاہیے، اسی سے پائیدار جمہوریت کا راستہ نکلے گا، سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں۔ سابق وزیر داخلہ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہیں، دنیا میں ایک ورلڈ آرڈر جنگل کے قانون کی طرف جا رہا ہے، ایران، یوکرین، اور وینزویلا سب جگہ یہی معیار کار فرما ہے۔ مکالمے کی اہمیت بڑھ گئی، شخصیت پرستی کے بھنور سے باہر آنا ہو گا۔ ہمیں کم سے کم نکات پر نیشنل ایجنڈے پر اتفاق کرنا ہو گا۔ سابق گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ کوشش ہے کہ سیاسی ٹمپریچر کو نیچے لایا جائے، جنگ میں انڈیا کو شکست کے بعد دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے، لیکن پاکستان کے معاشی حالات بہتر نہیں اس کے لیے ایک با مقصد ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں ہمیں فورسز کا ساتھ دینا چاہیے، حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ قوم تقسیم ہے، دو فریق ہیں ان کو کیسے اکٹھا کیا جائے گا کیونکہ کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے، وسیم اختر (ایم کیو ایم) نے کہا کہ ہمیں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے یہ اچھا اقدام ہے، جن لوگوں کو یہاں ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہیں، بہت ہو گیا سیاستدان پاکستان کی ترقی میں آڑے آ رہے ہیں، شیر افضل مروت (ایم این اے تحریک انصاف) نے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ، بے انصافی سے تحفظ، اب قومی سلامتی کے ایشوز بن گئے، عالمی رابطہ سے معیار میں 142 ملکوں میں ہم 129 ویں نمبر پر ہیں میں گواہ ہوں کہ ہمارے اسٹیبلشمنٹ سے ڈائیلاگ ہوتے رہے، عمران نے کبھی ڈائیلاگ سے انکار نہیں کیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی میں نامزد قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مذاکرات سے متعلق سماجی ذریعہ ابلاغ ’ایکس‘ پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ کس چیز کے مذاکرات؟ کسی نے میرے گھر پر ڈاکا ڈالا ہے اب اگر اس کے ساتھ مذاکرات کرنا ہیں تو وہ صرف اس بات پر ہوں گے کہ میرا لوٹا ہوا سامان واپس کر دو، البتہ اس میں کچھ کمی وغیرہ ہو تو ہم معاف کر دیتے ہیں، اگر کوئی اس معاملہ میں مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔ تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے بھی موقف اختیار کیا ہے کہ اس وقت حکومت اور تحریک انصاف میں مذاکرات کا کوئی ماحول نہیں، نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف مذاکرات کی حامی ہے مگر اس معاملہ میں کوئی روشنی نظر نہیں آتی، آئین کی دفعہ 17 کے تحت ہر سیاسی جماعت کو سیاست کرنے کا حق ہے مگر ہماری جماعت کو کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں۔ دوسری جانب اطلاعات یہ ہیں کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات کے ضمن میں گرین سگنل دے دیا ہے اور حکومتی وفد بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم حکومت کی طرف سے شرط عائد کی گئی ہے کہ مذاکرات تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں ہی سے ہوں گے غیر منتخب لوگوں سے بات چیت نہیں کی جائے گی جب کہ اسپیکر کے قریبی ذرائع کے مطابق تاحال تحریک انصاف کی طرف سے کسی رہنما نے مذاکرات کے لیے باضابطہ رابطہ نہیں کیا ہے۔ حزب اختلاف نے رضا مندی کا اظہار کیا تو اسپیکر فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلائیں گے۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے، سیاست میں ان کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور بلاشبہ اس ضمن میں زیادہ ذمے داری بھی حکومت وقت ہی پر عائد ہوتی ہے تاہم فریق ثانی یا حزب اختلاف کی ذمے داری بھی کچھ کم نہیں کیونکہ مذاکرات کی تالی بہرحال دونوں ہاتھوں سے بختی ہے اور کسی ایک فریق کے عدم تعاون اور رضا مندی کے بغیر مذاکرات کی بیل کا منڈھے چڑھنا محال ہے موجودہ صورت حال میں حکومت کی جانب سے اگرچہ مذاکرات کی پیشکش بھی کی گئی ہے اور وزیر اعظم نے اسپیکر کو مذاکراتی سلسلہ آگے بڑھانے کا اختیار بھی انہیں دیا ہے جب کہ تحریک انصاف میں مذاکرات سے متعلق واضح اختلاف رائے سامنے آ رہا ہے تحریک میں ایک حصہ اگر مذاکرات کا حامی ہے تو عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے موجودہ حکمرانوں سے مذاکرات کو بے مقصد اور بے معنی قرار دیا جا رہا ہے اور ان کی رائے میں یقینا وزن بھی ہے پہلی بات تو یہ کہ ایک جانب حکومت مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے تو دوسری جانب تحریک کے بانی، ان کی اہلیہ اور دوسرے رہنمائوں کو سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ تحریک کی قیادت اس لیے بھی مذاکرات کو آگے بڑھانے سے انکاری ہے کہ موجودہ حکومت کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی، تمام اختیارات مقتدرہ کے پاس ہیں وہ جب چاہے گی مذاکراتی عمل کو بے نتیجہ ختم کرا دے گی۔ یہ دلائل اپنی جگہ درست ہیں تاہم حالات کو بند گلی میں جانے سے بچانے اور سیاسی درجہ حرارت کو اعتدال پر رکھنے کیلیے بہرحال مذاکرات لازم ہیں۔ ہاں ان کو سنجیدہ اور نتیجہ خیز بنانے کیلیے متعلقہ حلقوں سے ضروری یقین دہانیوں کا تقاضا ضرور کیا جاسکتا ہے۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے کی ضرورت ہے مذاکرات کے مذاکرات کی نے کہا کہ کے ساتھ نہیں کی کی طرف کے لیے کیا جا ہے اور

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف