Jasarat News:
2026-07-24@02:57:56 GMT

امریکا یعنی شیطانِ اکبر؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا کو لوگ ایک ملک سمجھتے ہیں لیکن امریکا ملک نہیں ہے۔ کچھ لوگ اسے ’’غنڈہ‘‘ اور ’’بدمعاش‘‘ کہتے ہیں لیکن غنڈے اور بدمعاش تو چھوٹے موٹے برے لوگ ہوتے ہیں۔ امریکا اپنی اصل میں ’’شیطان اکبر‘‘ ہے۔ یہ اصطلاح سب سے پہلے ایران کے انقلابی رہنما امام خمینی نے استعمال کی تھی۔ وہ سوویت یونین کو ’’شیطان اصغر‘‘ اور امریکا کو ’’شیطان اکبر‘‘ کہا کرتے تھے۔ اور ان کا یہ کہنا بالکل درست تھا۔ امریکا کی پوری تاریخ ’’شیطان اکبر‘‘ کی تاریخ ہے۔ لیکن اس تاریخ پر ایک نظر ڈالنے کے لیے ہم چند دن پہلے کے واقعات سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔

جیسا کہ ہر باخبر شخص جانتا ہے کہ ایران معاشی بحران کا شکار ہے۔ اس کی کرنسی کی قدر انتہائی کم ہوگئی ہے جس سے کم آمدنی والے لوگ بری طرح متاثر ہوگئے ہیں۔ اس صورت حال کی وجہ سے ایرانی حکومت کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تہران سے شروع ہونے والے مظاہرے ایران کے 40 شہروں تک پھیل گئے۔ انہیں کنٹرول کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کئی مقامات پر گولی چلانی پڑی جس سے ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ صورت حال افسوس ناک ہے مگر یہ صورت حال ایران کا ’’داخلی معاملہ‘‘ ہے اور دنیا کے کسی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے مگر ’’شیطان اکبر‘‘ امریکا کے شیطان صفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایران کو دھمکی دی کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی تو امریکا ایران میں مداخلت کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو تو صرف فوجی مداخلت کی دھمکی دی مگر اگلے ہی دن امریکا نے وینزویلا میں عملاً فوجی مداخلت کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرکے نیویارک پہنچادیا۔ اس شیطانی حرکت کے بعد امریکا کے شیطان صفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وینزویلا میں ’’مناسب‘‘ انتقالِ اقتدار تک وینزویلا کا اقتدار اور اس کے تیل کے ذخائر کا نظام امریکا سنبھالے گا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ہم وینزویلا میں فوجی بھی اُتار سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے اغوا کو ایک ’’حیرت انگیز کام‘‘ قرار دیا اور پوری بے حیائی کے ساتھ فرمایا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے کولمبیا، میکسیکو اور کیوبا کے حکمرانوں کو دھمکایا اور کہا کہ جو کچھ وینزویلا کے صدر کے ساتھ ہوا تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

بدقسمتی سے ڈونلڈ ٹرمپ نے جس شیطنت کا مظاہرہ ایران اور وینزویلا کے حوالے سے کیا ہے اس کی پوری تاریخ اس شیطنت سے بھری ہوئی ہے۔ جیسا کہ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے امریکا سفید فاموں کا ملک نہیں تھا۔ امریکا ریڈ انڈینز کا ملک تھا۔ لیکن سفید فاموں نے امریکا پر ’’بہتر ہتھیاروں‘‘ کے ذریعے پورے امریکا یا Americas پر قبضہ کرلیا۔ اس قبضے میں انہیں ڈیڑھ سو دو سو سال لگے۔ مغرب کے ممتاز دانش ور اور مورخ مائیکل مان نے اپنی تصنیف Dark Side of Democracy میں لکھا ہے کہ سفید فاموں نے امریکا پر قبضے کے لیے 8 سے 10 کروڑ ریڈ انڈینز کا قتل عام کیا۔ انہوں نے ریڈ انڈینز کی پوری نسل ہی نہیں پوری تہذیب ہی کو مٹا ڈالا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود سفید فام خود کو ’’مہذب‘‘ اور ریڈ انڈینز کو غیر مہذب کہتے رہے اور آج بھی کہتے ہیں۔ حالانکہ ریڈ انڈینز سفید فاموں سے لاکھوں گنا زیادہ مہذب تھے۔ سفید فام امریکا آئے تھے تو ریڈ انڈینز نے ان کا خیر مقدم کیا تھا۔ انہیں رہنے کے لیے گھر اور کھانے کے لیے غذا مہیا کی تھی۔ مگر سفید فاموں نے انہی ریڈ انڈینز سے پورا امریکا چھین لیا۔ اور ان کی نسل ہی کو فنا کردیا۔ اس لیے امریکا کی ممتاز دانش ور سوسن سونٹیگ نے ایک بار کہا تھا کہ امریکا کی بنیاد نسل کشی یا Genoside پر رکھی ہوئی ہے۔ سوسن سونٹیگ کا یہ بیان ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا تو ہر طرف سے غدار غدار کی صدائیں ابھرنے لگیں۔

دوسری عالمی جنگ ہٹلر کے جرمن اور دیگر یورپی ملکوں کی جنگ تھی مگر امریکا اپنی شیطنت کی وجہ سے اس جنگ میں کود پڑا اور اس نے جاپان پر ایک نہیں دو ایٹم بم گرا کر لاکھوں افراد کو ہلاک اور ہزاروں کو زندہ درگور کردیا۔ امریکا کے کئی ممتاز دانش وروں نے لکھا ہے کہ امریکا کو جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جاپان روایتی جنگ ہار چکا تھا اور وہ امریکا کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی والا تھا۔ امریکی فوج نے اس سلسلے میں جاپانی فوج کے خفیہ پیغامات ’’ڈی کوڈ‘‘ کرلیے تھے۔ مگر اس کے باوجود پوری دنیا کو خوف زدہ کرنے کے لیے امریکا نے جاپان پر دو ایٹم بم گرا دیے۔

امریکا نے کسی ’’اخلاقی‘‘ یا ’’سیاسی جواز‘‘ کے بغیر ویت نام میں فوج داخل کردی۔ اس جنگ میں امریکا نے 10 لاکھ سے زیادہ ویت نامیوں کو ہلاک کردیا۔ لیکن اس کے باوجود امریکا ویت نامیوں کے جذبۂ آزادی کو نہ کچل سکا اور دس سال بعد امریکا کو ویت نام سے ناکام و نامراد لوٹنا پڑا۔ امریکا نے کوریا کی جنگ میں بھی شیطنت کا کھل کر مظاہرہ کیا اور 30 لاکھ لوگ مار ڈالے۔ ایران نے 1953ء میں تیل کی صنعت کو قومیا لیا۔ یہ کام صدر مصدق کی حکومت نے کیا۔ چنانچہ امریکا صدر مصدق کا دشمن ہوگیا اور ان کو اقتدار سے ہٹا کر دم لیا۔ شاہ فیصل کہنے کو ’’بادشاہ‘‘ تھے مگر ان کے دل میں خوف خدا اور رسول اکرمؐ کی امت کی محبت تھی۔ چنانچہ انہوں نے ایک دن امریکی سفیر کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا اور خیمہ صحرا میں لگایا۔ امریکی سفیر آیا تو شاہ فیصل نے اس کے سامنے چند کھجوریں اور قہوے کا کپ رکھ دیا۔ شاہ فیصل نے امریکی سفیر سے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد کھجوروں اور قہوے پر گزارا کرتے تھے چنانچہ ہم بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے امریکی سفیر سے کہا کہ امریکا ہمیں تیل کے کنوئوں پر قبضے سے کیا ڈراتا ہے ہم خود ان کنوئوں کو آگ لگادیں گے۔ اس سے ہمیں جو نقصان ہوگا وہ ہوگا مگر سوچو تمہیں پٹرول نہ ملا تو تمہاری معیشت کا کیا ہوگا۔ اس گفتگو کے کچھ ہی عرصے بعد شیطان اکبر امریکا نے شاہ فیصل کو شہید کرادیا اور انہی کے بھتیجے سے۔

امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے صدام حسین کے عراق پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں جس سے عراق میں غذا اور دوائوں کی قلت ہوگئی۔ اس قلت سے عراق میں پانچ لاکھ بچوں سمیت دس لاکھ افراد ہلاک ہوگئے۔ بی بی سی ٹیلی ویژن کے ایک صحافی نے امریکا کی وزیر خارجہ میڈی لن آلبرائیٹ سے اس نقصان کے بارے میں سوال کیا تو امریکا کی وزیر خارجہ نے پوری شیطنت کے ساتھ کہا۔ It is acceptable and worth it

یعنی یہ نقصان ’’قابل قبول‘‘ اور قدرو قیمت کا حامل ہے۔

امریکا نے صدام حسین کے خلاف ایک جھوٹ گھڑا اور کہا کہ اس کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ ہمیں اس الزام کی تحقیق کرنے دیں۔ اقوام متحدہ نے اپنے ماہرین کی ایک ٹیم عراق روانہ کی اور عراق نے اس ٹیم کو خوش آمدید کہا۔ لیکن امریکا نے اپنے زیر اثر کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کی رپورٹ کا بھی انتظار نہ کیا اور عراق پر حملہ کردیا۔ بعدازاں ثابت ہوا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے ہی نہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق عراق پر مسلط کی ہوئی امریکی جنگ سے پانچ سال میں 6 لاکھ لوگ مارے گئے۔ امریکا نے عراق پر قبضے کے دوران ابوغریب جیل میں قیدیوں پر شیطانی تشدد کی انتہا کردی۔ امریکیوں نے قیدیوں پر کتے چھوڑے، انہیں کئی کئی دنوں تک سردیوں میں برہنہ رکھا، انہیں بجلی کے جھٹکے دیے اور ثابت کیا کہ واقعتا امریکا شیطان اکبر ہے۔

امریکا نے نائن الیون کے بعد کسی جواز کے بغیر افغانستان پر قبضہ کرلیا اور وہ 20 سال تک افغانستان پر جنگ مسلط کیے رہا۔ اس جنگ میں اس نے ایک لاکھ سے زیادہ افغانیوں کو بمباری اور دوسرے طریقوں سے قتل کیا۔ اس نے اس سلسلے میں شادی بیاہ کی تقریبات تک کو بھی نہ بخشا۔ لیکن امریکا 20 سال کی کوششوں اور تین ہزار ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانوں کے جذبہ ٔ حریت کو فتح نہ کرسکا اور بالآخر اسے افغانستان سے نکلنا پڑا۔ اب اسرائیل دو سال سے فلسطین میں 85 ہزار فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے، ایک لاکھ سے زیادہ لوگ زخمی ہوچکے ہیں، پورا غزہ کھنڈر بن چکا ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ شیطنت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکا کی شیطنت کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرتے ہوئے کسی بین الاقوامی قانون کا سہارا نہیں لیا، یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس سے بھی حملے اور اغوا کی منظوری حاصل نہیں کی۔ یورپ خود کو ’’مہذب‘‘ اور ’’قانون پسند‘‘ کہتا ہے مگر یورپی یونین کے 27 اراکین میں سے صرف اسپین نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے اغوا کی مذمت کی۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیئراسٹارمر صرف یہ کہہ کر رہ گئے کہ اس حملے اور اغوا میں برطانیہ کا کوئی ہاتھ نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یورپ ’’شیطان اکبر‘‘ نہیں تو ’’شیطان اصغر‘‘ ضرور ہے۔

 

شاہنواز فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نے وینزویلا امریکی سفیر سفید فاموں ریڈ انڈینز شیطان اکبر امریکا نے کے باوجود امریکا کے امریکا کی ہے امریکا کرتے ہوئے امریکا کو سے زیادہ شاہ فیصل امریکا ا شیطنت کا کے خلاف کے ساتھ کے لیے نے ایک

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران