Jasarat News:
2026-06-02@22:09:04 GMT

امریکا یعنی شیطانِ اکبر؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا کو لوگ ایک ملک سمجھتے ہیں لیکن امریکا ملک نہیں ہے۔ کچھ لوگ اسے ’’غنڈہ‘‘ اور ’’بدمعاش‘‘ کہتے ہیں لیکن غنڈے اور بدمعاش تو چھوٹے موٹے برے لوگ ہوتے ہیں۔ امریکا اپنی اصل میں ’’شیطان اکبر‘‘ ہے۔ یہ اصطلاح سب سے پہلے ایران کے انقلابی رہنما امام خمینی نے استعمال کی تھی۔ وہ سوویت یونین کو ’’شیطان اصغر‘‘ اور امریکا کو ’’شیطان اکبر‘‘ کہا کرتے تھے۔ اور ان کا یہ کہنا بالکل درست تھا۔ امریکا کی پوری تاریخ ’’شیطان اکبر‘‘ کی تاریخ ہے۔ لیکن اس تاریخ پر ایک نظر ڈالنے کے لیے ہم چند دن پہلے کے واقعات سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔

جیسا کہ ہر باخبر شخص جانتا ہے کہ ایران معاشی بحران کا شکار ہے۔ اس کی کرنسی کی قدر انتہائی کم ہوگئی ہے جس سے کم آمدنی والے لوگ بری طرح متاثر ہوگئے ہیں۔ اس صورت حال کی وجہ سے ایرانی حکومت کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے تہران سے شروع ہونے والے مظاہرے ایران کے 40 شہروں تک پھیل گئے۔ انہیں کنٹرول کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کئی مقامات پر گولی چلانی پڑی جس سے ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ صورت حال افسوس ناک ہے مگر یہ صورت حال ایران کا ’’داخلی معاملہ‘‘ ہے اور دنیا کے کسی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے مگر ’’شیطان اکبر‘‘ امریکا کے شیطان صفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایران کو دھمکی دی کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی تو امریکا ایران میں مداخلت کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو تو صرف فوجی مداخلت کی دھمکی دی مگر اگلے ہی دن امریکا نے وینزویلا میں عملاً فوجی مداخلت کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرکے نیویارک پہنچادیا۔ اس شیطانی حرکت کے بعد امریکا کے شیطان صفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وینزویلا میں ’’مناسب‘‘ انتقالِ اقتدار تک وینزویلا کا اقتدار اور اس کے تیل کے ذخائر کا نظام امریکا سنبھالے گا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ہم وینزویلا میں فوجی بھی اُتار سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے اغوا کو ایک ’’حیرت انگیز کام‘‘ قرار دیا اور پوری بے حیائی کے ساتھ فرمایا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے کولمبیا، میکسیکو اور کیوبا کے حکمرانوں کو دھمکایا اور کہا کہ جو کچھ وینزویلا کے صدر کے ساتھ ہوا تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

بدقسمتی سے ڈونلڈ ٹرمپ نے جس شیطنت کا مظاہرہ ایران اور وینزویلا کے حوالے سے کیا ہے اس کی پوری تاریخ اس شیطنت سے بھری ہوئی ہے۔ جیسا کہ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے امریکا سفید فاموں کا ملک نہیں تھا۔ امریکا ریڈ انڈینز کا ملک تھا۔ لیکن سفید فاموں نے امریکا پر ’’بہتر ہتھیاروں‘‘ کے ذریعے پورے امریکا یا Americas پر قبضہ کرلیا۔ اس قبضے میں انہیں ڈیڑھ سو دو سو سال لگے۔ مغرب کے ممتاز دانش ور اور مورخ مائیکل مان نے اپنی تصنیف Dark Side of Democracy میں لکھا ہے کہ سفید فاموں نے امریکا پر قبضے کے لیے 8 سے 10 کروڑ ریڈ انڈینز کا قتل عام کیا۔ انہوں نے ریڈ انڈینز کی پوری نسل ہی نہیں پوری تہذیب ہی کو مٹا ڈالا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود سفید فام خود کو ’’مہذب‘‘ اور ریڈ انڈینز کو غیر مہذب کہتے رہے اور آج بھی کہتے ہیں۔ حالانکہ ریڈ انڈینز سفید فاموں سے لاکھوں گنا زیادہ مہذب تھے۔ سفید فام امریکا آئے تھے تو ریڈ انڈینز نے ان کا خیر مقدم کیا تھا۔ انہیں رہنے کے لیے گھر اور کھانے کے لیے غذا مہیا کی تھی۔ مگر سفید فاموں نے انہی ریڈ انڈینز سے پورا امریکا چھین لیا۔ اور ان کی نسل ہی کو فنا کردیا۔ اس لیے امریکا کی ممتاز دانش ور سوسن سونٹیگ نے ایک بار کہا تھا کہ امریکا کی بنیاد نسل کشی یا Genoside پر رکھی ہوئی ہے۔ سوسن سونٹیگ کا یہ بیان ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا تو ہر طرف سے غدار غدار کی صدائیں ابھرنے لگیں۔

دوسری عالمی جنگ ہٹلر کے جرمن اور دیگر یورپی ملکوں کی جنگ تھی مگر امریکا اپنی شیطنت کی وجہ سے اس جنگ میں کود پڑا اور اس نے جاپان پر ایک نہیں دو ایٹم بم گرا کر لاکھوں افراد کو ہلاک اور ہزاروں کو زندہ درگور کردیا۔ امریکا کے کئی ممتاز دانش وروں نے لکھا ہے کہ امریکا کو جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جاپان روایتی جنگ ہار چکا تھا اور وہ امریکا کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی والا تھا۔ امریکی فوج نے اس سلسلے میں جاپانی فوج کے خفیہ پیغامات ’’ڈی کوڈ‘‘ کرلیے تھے۔ مگر اس کے باوجود پوری دنیا کو خوف زدہ کرنے کے لیے امریکا نے جاپان پر دو ایٹم بم گرا دیے۔

امریکا نے کسی ’’اخلاقی‘‘ یا ’’سیاسی جواز‘‘ کے بغیر ویت نام میں فوج داخل کردی۔ اس جنگ میں امریکا نے 10 لاکھ سے زیادہ ویت نامیوں کو ہلاک کردیا۔ لیکن اس کے باوجود امریکا ویت نامیوں کے جذبۂ آزادی کو نہ کچل سکا اور دس سال بعد امریکا کو ویت نام سے ناکام و نامراد لوٹنا پڑا۔ امریکا نے کوریا کی جنگ میں بھی شیطنت کا کھل کر مظاہرہ کیا اور 30 لاکھ لوگ مار ڈالے۔ ایران نے 1953ء میں تیل کی صنعت کو قومیا لیا۔ یہ کام صدر مصدق کی حکومت نے کیا۔ چنانچہ امریکا صدر مصدق کا دشمن ہوگیا اور ان کو اقتدار سے ہٹا کر دم لیا۔ شاہ فیصل کہنے کو ’’بادشاہ‘‘ تھے مگر ان کے دل میں خوف خدا اور رسول اکرمؐ کی امت کی محبت تھی۔ چنانچہ انہوں نے ایک دن امریکی سفیر کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا اور خیمہ صحرا میں لگایا۔ امریکی سفیر آیا تو شاہ فیصل نے اس کے سامنے چند کھجوریں اور قہوے کا کپ رکھ دیا۔ شاہ فیصل نے امریکی سفیر سے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد کھجوروں اور قہوے پر گزارا کرتے تھے چنانچہ ہم بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے امریکی سفیر سے کہا کہ امریکا ہمیں تیل کے کنوئوں پر قبضے سے کیا ڈراتا ہے ہم خود ان کنوئوں کو آگ لگادیں گے۔ اس سے ہمیں جو نقصان ہوگا وہ ہوگا مگر سوچو تمہیں پٹرول نہ ملا تو تمہاری معیشت کا کیا ہوگا۔ اس گفتگو کے کچھ ہی عرصے بعد شیطان اکبر امریکا نے شاہ فیصل کو شہید کرادیا اور انہی کے بھتیجے سے۔

امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے صدام حسین کے عراق پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں جس سے عراق میں غذا اور دوائوں کی قلت ہوگئی۔ اس قلت سے عراق میں پانچ لاکھ بچوں سمیت دس لاکھ افراد ہلاک ہوگئے۔ بی بی سی ٹیلی ویژن کے ایک صحافی نے امریکا کی وزیر خارجہ میڈی لن آلبرائیٹ سے اس نقصان کے بارے میں سوال کیا تو امریکا کی وزیر خارجہ نے پوری شیطنت کے ساتھ کہا۔ It is acceptable and worth it

یعنی یہ نقصان ’’قابل قبول‘‘ اور قدرو قیمت کا حامل ہے۔

امریکا نے صدام حسین کے خلاف ایک جھوٹ گھڑا اور کہا کہ اس کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ ہمیں اس الزام کی تحقیق کرنے دیں۔ اقوام متحدہ نے اپنے ماہرین کی ایک ٹیم عراق روانہ کی اور عراق نے اس ٹیم کو خوش آمدید کہا۔ لیکن امریکا نے اپنے زیر اثر کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کی رپورٹ کا بھی انتظار نہ کیا اور عراق پر حملہ کردیا۔ بعدازاں ثابت ہوا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے ہی نہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق عراق پر مسلط کی ہوئی امریکی جنگ سے پانچ سال میں 6 لاکھ لوگ مارے گئے۔ امریکا نے عراق پر قبضے کے دوران ابوغریب جیل میں قیدیوں پر شیطانی تشدد کی انتہا کردی۔ امریکیوں نے قیدیوں پر کتے چھوڑے، انہیں کئی کئی دنوں تک سردیوں میں برہنہ رکھا، انہیں بجلی کے جھٹکے دیے اور ثابت کیا کہ واقعتا امریکا شیطان اکبر ہے۔

امریکا نے نائن الیون کے بعد کسی جواز کے بغیر افغانستان پر قبضہ کرلیا اور وہ 20 سال تک افغانستان پر جنگ مسلط کیے رہا۔ اس جنگ میں اس نے ایک لاکھ سے زیادہ افغانیوں کو بمباری اور دوسرے طریقوں سے قتل کیا۔ اس نے اس سلسلے میں شادی بیاہ کی تقریبات تک کو بھی نہ بخشا۔ لیکن امریکا 20 سال کی کوششوں اور تین ہزار ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانوں کے جذبہ ٔ حریت کو فتح نہ کرسکا اور بالآخر اسے افغانستان سے نکلنا پڑا۔ اب اسرائیل دو سال سے فلسطین میں 85 ہزار فلسطینیوں کو شہید کرچکا ہے، ایک لاکھ سے زیادہ لوگ زخمی ہوچکے ہیں، پورا غزہ کھنڈر بن چکا ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ شیطنت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکا کی شیطنت کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرتے ہوئے کسی بین الاقوامی قانون کا سہارا نہیں لیا، یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس سے بھی حملے اور اغوا کی منظوری حاصل نہیں کی۔ یورپ خود کو ’’مہذب‘‘ اور ’’قانون پسند‘‘ کہتا ہے مگر یورپی یونین کے 27 اراکین میں سے صرف اسپین نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے اغوا کی مذمت کی۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیئراسٹارمر صرف یہ کہہ کر رہ گئے کہ اس حملے اور اغوا میں برطانیہ کا کوئی ہاتھ نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یورپ ’’شیطان اکبر‘‘ نہیں تو ’’شیطان اصغر‘‘ ضرور ہے۔

 

شاہنواز فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نے وینزویلا امریکی سفیر سفید فاموں ریڈ انڈینز شیطان اکبر امریکا نے کے باوجود امریکا کے امریکا کی ہے امریکا کرتے ہوئے امریکا کو سے زیادہ شاہ فیصل امریکا ا شیطنت کا کے خلاف کے ساتھ کے لیے نے ایک

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار