ڈھاکا:

بنگلادیش کی عبوری حکومت نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے باعث بھارتی شہریوں پر ویزا پابندیاں سخت کر دی ہیں، جس سے نئی دہلی کے غاصبانہ رویے کو کھلا جواب دیا گیا ہے۔

ڈھاکہ کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ سکیورٹی خطرات کی وجہ سے بھارت میں قائم بنگلادیشی سفارتی مشنز کے ویزا سیکشنز کو مزید بند کر دیا گیا ہے۔

 یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ ہو گئی ہیں، اور اب کاروباری اور نوکری کے ویزوں کے سوا تمام دیگر اقسام کے ویزے جاری کرنا مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

مودی پالیسیوں کے خلاف بنگلا دیش میں شدید احتجاج، بھارت مخالف نعرے گونج اٹھے

تازہ ترین اقدامات کے تحت کولکتہ میں بنگلادیشی ڈپٹی ہائی کمیشن کی تمام قونصلر اور ویزا سروسز بند کر دی گئی ہیں، جبکہ ممبئی اور چنئی کے مشنز میں سیاحتی، طبی اور دیگر ویزوں کی درخواستوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خالصتاً سکیورٹی بنیادوں پر کیا گیا، کیونکہ بھارت میں بنگلادیشی سفارتی عمارتوں کے اطراف احتجاجی مظاہروں اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، جو بھارتی انتہا پسندوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل دسمبر میں بنگلادیش نے نئی دہلی کے ہائی کمیشن، اگرتلہ کے اسسٹنٹ ہائی کمیشن اور سلی گوڑی کے ویزا سینٹر کی خدمات بھی معطل کر دی تھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟