پورٹ لینڈ میں وفاقی اہلکار کی فائرنگ، وینزویلا گینگ کے مبینہ 2 ارکان زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پورٹ لینڈ (اوریگن): امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) کے ایک افسر نے پورٹ لینڈ میں ٹارگٹڈ ٹریفک اسٹاپ کے دوران مبینہ طور پر وینزویلا کے جرائم پیشہ گینگ ٹرین ڈی آراگوا سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور ایک خاتون کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب گاڑی کے ڈرائیور نے اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی۔
اہم تفصیلات کے مطابق جمعرات کی سہ پہر تقریباً 2 بج کر 18 منٹ پر پورٹ لینڈ کے جنوب مشرقی علاقے میں فائرنگ کی اطلاع پر مقامی پولیس پہنچی۔ پولیس نے تصدیق کی کہ واقعے میں وفاقی اہلکار ملوث تھے، تاہم مقامی پولیس نے فائرنگ نہیں کی۔
امریکی محکمہ داخلی سلامتی کی اسسٹنٹ سیکریٹری ٹریشیا مکلافلن کے مطابق بارڈر پٹرول ایجنٹس ایک مخصوص گاڑی کو روک رہے تھے، جس میں سوار ایک شخص وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ہدف تھا۔ ان کے بقول گاڑی میں موجود مسافر ایک غیر قانونی وینزویلا شہری تھا جو ٹرین ڈی آراگوا نامی سرحد پار جرائم پیشہ نیٹ ورک سے وابستہ ہے اور حالیہ فائرنگ کے ایک واقعے میں بھی ملوث رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ گاڑی کا ڈرائیور بھی اسی گینگ کا رکن سمجھا جاتا ہے۔ جب اہلکاروں نے اپنی شناخت ظاہر کی تو ڈرائیور نے گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی۔ صورتحال میں ایک افسر نے اپنی جان کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے دفاعی فائرنگ کی۔
فائرنگ کے بعد گاڑی جائے وقوعہ سے فرار ہو گئی، تاہم کچھ ہی دیر بعد پورٹ لینڈ کے ہیزل وڈ علاقے میں ایک مرد اور خاتون زخمی حالت میں پائے گئے۔ پولیس کے مطابق دونوں کو گولیوں کے زخم آئے تھے، جنہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پورٹ لینڈ پولیس بیورو کے چیف باب ڈے نے کہا کہ واقعہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
ادھر سینیٹر جیف مرکلی نے بتایا کہ واقعہ پورٹ لینڈ ایڈونٹسٹ اسپتال کے قریب پیش آیا، جبکہ پورٹ لینڈ کے میئر کیتھ ولسن نے وفاقی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک شہر میں امیگریشن سے متعلق کارروائیاں روکی جائیں۔
میئر کے مطابق وفاقی اداروں کی عسکری نوعیت کی کارروائیاں شہری تحفظ اور آئینی اقدار کے منافی ہیں، جبکہ انہوں نے عوام سے تشدد کے جواب میں تشدد سے گریز کرنے کی بھی اپیل کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔